مقبوضہ جموں و کشمیر

امریکہ ایران کشیدگی کے خاتمے پر وزیر اعظم شہبازشریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کی تعریف

ڈی ایف پی کاتنازعہ کشمیر کے منصفانہ، پائیدار حل پر زور

سرینگر:جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے ہونے والی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطی میں امن کے قیام کے لیے جس طرح عالمی برادری بالخصوص پاکستان نے فعال کردار ادا کیا، اسی طرح مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے بھی موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان نے ایک بیان میں ان تمام ممالک اور قیادتوں کی کاوشوں کو سراہا جنہوں نے خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا۔ بیان میں بالخصوص پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے امن اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابلِ ستائش قرار دیا گیا۔ترجمان نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ تنازعات کا حل جنگ، تصادم اور طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ بامعنی مذاکرات، سفارتی رابطوں اور سیاسی بصیرت میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی اصول جنوبی ایشیا کے سب سے دیرینہ اور حل طلب تنازعہ، جموں و کشمیر، پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ماضی میں ہونے والی جنگ بندیوں اور کشیدگی میں کمی کے اقدامات سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم خطے میں حقیقی اور پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مسئلہ جموں و کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطابق حل نہیں کیا جاتا۔جے کے ڈی ایف پی کے ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے بامعنی مذاکرات شروع کرنے کیلئے بھارت پر دبائو بڑھائے تاکہ خطے کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ جنوبی ایشیا ایک حساس خطہ ہے جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کے اثرات عالمی امن و سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ وسائل کو جنگی تیاریوں کے بجائے غربت کے خاتمے، تعلیم، صحت اور انسانی ترقی کے شعبوں پر صرف کیا جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی برادری جموں و کشمیر کے عوام کو بھی اپنے امن و انصاف کے ایجنڈے میں شامل کرتے ہوئے اس دیرینہ تنازعہ کے حل کے لیے مثر اور نتیجہ خیز کردار ادا کرے گی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button