بھارت

بھارتی فوج میں بدعنوانی کے انکشافات: کپورتھلہ سے کولکتہ تک کرپشن عروج پر

نئی دلی :بھارتی فوج میں بدعنوانی کے معاملات نے ایک بار پھر قومی سلامتی اور ادارہ جاتی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حالیہ دنوں میں کپورتھلہ بھرتی اسکینڈل اور کولکتہ میں خریداری میں مبینہ رشوت کے مقدمات نے عسکری قیادت اور سول انتظامیہ کی مشترکہ ناکامیوں کو بے نقاب کیا ہے۔بھارتی فوج نے پنجاب کے ضلع کپورتھلہ میں واقع سروس سلیکشن سینٹر میں بھرتیوں کے معاملے میں رشوت لینے کے الزام میں ایک میجر جنرل اور تقریبا 20 دیگر افسران کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کر دی ہے ۔سی بی آئی کی 2021 کی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ فوجی افسران اور سویلین ملزمان نے کمیشن کے بدلے رشوت کا ایک نیٹ ورک چلا رکھا تھا، جس کے ذریعے طبی بنیادوں پر مسترد کیے گئے امیدواروں کو جعلی ریویو میڈیکل بورڈز کے ذریعے کلیئر کیا جاتا تھا ۔ ہر امیدوار سے 50 ہزار سے 10 لاکھ روپے تک رشوت وصول کی جاتی تھی۔ سی بی آئی نے 23ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا، جن میں 17فوجی اہلکار شامل تھے، جبکہ 13 شہروں میں 30مقامات پر چھاپے مارے گئے ۔میجر جنرل کو ان کی ملازمت کے آخری روز آرمی ایکٹ کی دفعہ 123کے تحت لایا گیا تاکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کا کورٹ مارشل ممکن بنایا جا سکے ۔گزشتہ ماہ مئی میں سی بی آئی نے آرمی آرڈیننس کور کے کرنل ہمانشو بالی کو مبینہ طور پر کانپور کی دفاعی سپلائر کمپنی M/s Eastern Global Limited سے 50 لاکھ روپے رشوت وصول کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ۔ تحقیقات کے مطابق، کرنل بالی نے رواں سال مارچ تا اپریل کے دوران ٹینڈرز میں ہیرا پھیری کی، ناقص معیار کے نمونوں کی منظوری دی اور زائد بلوں کو کلیئر کیا ۔رشوت سے متعلق ملاقاتیں کولکتہ کے پارک اسٹریٹ میں ہوئیں جبکہ رقم کی ترسیل دہلی-این سی آر میں کرائی گئی ۔ اس مقدمے میں پانچ دیگر ملزمان بھی شامل ہیں ۔میرٹھ میں بھارتی فوج کے الیکٹرانکس اینڈ مکینیکل انجینئرزبٹالین کے ایک کرنل اور ایک میجر فوجی سامان کی خریداری میں 2کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں پر کورٹ مارشل کا سامنا کر رہے ہیں ۔کرنل پر 12الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں پانچ انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت شامل ہیں ۔ کرنل نے آرمڈ فورسز ٹریبونل اور دہلی ہائی کورٹ میں کارروائی کو چیلنج کیا، تاہم عدالت نے فوج کو تادیبی کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت دی ۔یہ واقعات کوئی الگ تھلگ نہیں ہیں۔ 2008سے2011کے دوران سکھنا لینڈ اسکینڈل میں لیفٹیننٹ جنرل پی کے راٹھ اور لیفٹیننٹ جنرل اودیش پرکاش سمیت سینئر جرنیلوں پر فوجی زمین کو نجی بلڈر کے حوالے کرنے کے الزامات لگے ۔ ممبئی کے آدرش ہاسنگ سوسائٹی اسکینڈل میں دو سابق آرمی چیفس سمیت متعدد سینئر افسران ملوث پائے گئے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھرتی اور خریداری میں بدعنوانی براہِ راست فوجی پیشہ ورانہ معیار اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچاتی ہے ۔ جب تک سخت ادارہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹل شفافیت اور آزاد نگرانی نافذ نہیں کی جاتی، یہ ناسور بھارتی فوج کو اندر سے کھوکھلا کرتا رہے گا۔ بھارتی وزارتِ دفاع کی سول قیادت اور مختلف حکومتوں کی پے در پے ناکامیاں اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہیں ۔#

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button