پاکستان کی ابھرتی ہوئی سفارتکاری، ایران۔امریکہ مذاکرات، ایرانی صدر کا دورۂ پاکستان اور خطے میں بھارت کی بڑھتی سفارتی تنہائی
محمد شہباز
سوئٹزرلینڈ میں ایران امریکہ مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر ہوا جس کی سربراہی پاکستان اور قطر مشترکہ طور پر کررہے تھے ، وزیراعظم پاکستان اور فلیڈ مارشل کے علاوہ قطری وزیراعظم ان مذاکرات کی میزبانی کررہے تھے، مذاکرات کا پہلا دور معاہدہ اسلام آباد کے تحت مکمل ہوا ، مذاکرات میں آبنائے ہرمز کھولنے ، ایران کو اپنا تیل بیچنے کیلئے ساٹھ روزہ لائسنس جاری کیا گیا ، ساتھ ہی ایران کے کچھ منجمد اثاثے بھی بحال کیے گئے ، مذاکرات کے صرف ایک روز بعد ایرانی صدر ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچے جہاں انکا پرتپاک استقبال کیا گیا، ان کے جہاز کو پاک فضائیہ نے اپنی حصار میں لیا، جبکہ صدر ، وزیراعظم اور فلیڈ مارشل نے ان کیساتھ ملاقاتیں کیں۔
پوری دنیا میں اکیسویں صدی کی عالمی سیاست بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہو رہا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں نئی سفارتی صف بندیاں معرض وجود میں آ رہی ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان ایک مرتبہ پھر خطے کی اہم سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنتا جارہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں کے بعد ایرانی صدر کا فوری دورۂ پاکستان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد خطے میں امن، استحکام اور سفارتکاری کے حوالے سے ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ایرانی صدر کے دورے کو پاکستان اور ایران کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں علاقائی امن، دوطرفہ تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی، انسداد دہشت گردی، اقتصادی تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاک فضائیہ کی جانب سے ایرانی صدارتی طیارے کو فضائی حدود میں خصوصی ایسکارٹ فراہم کرنا اور سرکاری سطح پر پرتپاک استقبال اس دورے کی اہمیت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
پاکستان گزشتہ چند برسوں میں پورے خطے کے علاوہ یورپ میں اپنی خارجہ پالیسی کو تعاون پر مبنی، معاشی شراکت داری اور متوازن سفارتکاری کی بنیاد پر استوار کررہا ہے۔ چین، سعودی عرب، ترکیہ، آذربائیجان، ایران، قطر اور وسطی ایشیائی ریاستوں کیساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی پالیسی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی اور علاقائی معاملات میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو پہلے سے زیادہ توجہ اور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
پاکستان اور ایران کے تعلقات صرف ہمسایگی تک محدود نہیں بلکہ ان کی بنیاد مذہبی، ثقافتی، تاریخی اور اقتصادی روابط پر بھی قائم ہیں اور یہ صدیوں سے چلے آ رہے ہیں۔ دونوں ممالک تقریباً نو سو کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد رکھتے ہیں اور یہ سرحد صرف جغرافیائی اہمیت ہی نہیں رکھتی بلکہ تجارت، سلامتی اور علاقائی رابطوں کیلئے بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
ایرانی صدر کیساتھ ملاقاتوں کے دوران توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے، سرحدی منڈیوں کے قیام، باہمی تجارت میں اضافے، ٹرانزٹ سہولیات کی بہتری اور رابطہ کاری کو مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر دونوں ممالک اقتصادی تعاون کو عملی شکل دینے میں کامیاب ہو جائیں تو نہ صرف ان کی معیشتیں مستحکم ہوں گی بلکہ پورا خطہ اس سے مستفید ہو سکتا ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے بارہا اس مؤقف کا اظہار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات کا حل جنگ نہیں بلکہ پرامن اور بامعنی مذاکرات ہیں۔ پاکستان نے مختلف مواقع پر کشیدگی کم کرنے، بات چیت کی حوصلہ افزائی کرنے اور علاقائی استحکام کیلئے سفارتی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ یہی متوازن پالیسی پاکستان کو مختلف علاقائی فریقوں کیساتھ رابطے برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد کسی بلاک کا حصہ بننے کے بجائے تمام اہم ممالک کیساتھ متوازن تعلقات قائم رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد بیک وقت چین، امریکہ، خلیجی ممالک، ترکیہ اور ایران کیساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایرانی صدر کا یہ دورہ کئی حوالوں سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ایک طرف خطے میں حالیہ کشیدگی کے بعد سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان اور ایران اپنے اقتصادی تعلقات کو نئی جہت دینا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک نے سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ ایران کیساتھ برادرانہ تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے، جبکہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کیساتھ بھی اپنے روابط کو متوازن رکھا ہے۔ یہی سفارتی توازن پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک اہم خصوصیت سمجھا جاتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر ہوگیا ہے، جسے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ مذاکرات اسلام آباد میں طے پانے والے "معاہدہ اسلام آباد” (Islamabad Memorandum of Understanding) کے تسلسل میں ہوئے، جس نے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی راہ ہموار کی۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستان نے پھر ایکبار ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی، جبکہ قطر نے بھی مشترکہ ثالث کے طور پر اہم کردار ادا کیا۔ مذاکرات میں فریقین نے حتمی معاہدے کیلئے 60 روزہ روڈ میپ، اعلیٰ سطحی نگرانی کمیٹی کے قیام اور تکنیکی مذاکرات کے آئندہ مراحل تک پہنچنے پر اتفاق کیا، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز سے متعلق امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ معاہدہ اسلام آباد کے بعد سوئٹزرلینڈ میں ہونے والا یہ دور خطے میں سفارتکاری کی کامیابی اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی سفارتی اثرورسوخ کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی دوران جنوبی ایشیا میں بھارت کی خارجہ پالیسی بھی مختلف تجزیوں کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق حالیہ علاقائی پیشرفت کے دوران پاکستان مختلف علاقائی ممالک کیساتھ روابط بڑھانے میں سرگرم دکھائی دیا، جبکہ بھارت کو بعض معاملات میں اپنی سفارتی ترجیحات پر نظرثانی کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے۔بھارت مکمل طور پر سفارتی تنہائی کا شکار ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں بدلتے ہوئے اتحاد اور نئی سفارتی سرگرمیوں نے خطے میں سفارتی مقابلے کی نوعیت کو ضرور تبدیل کیا ہے۔
کئی مواقع پر عالمی برادری نے پاکستان اور بھارت دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعات کو پرامن مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل کریں۔ اسی تناظر میں اگر پاکستان اپنے علاقائی روابط کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھاتا ہے تو اس کی سفارتی اہمیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
آج دنیا صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ اقتصادی تعاون، سفارتی روابط، تجارتی راہداریوں اور علاقائی شراکت داریوں سے آگے بڑھ رہی ہے۔ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ، وسطی ایشیا کی منڈیاں، خلیجی سرمایہ کاری اور توانائی کے نئے راستے جنوبی ایشیا کو عالمی سیاست کا اہم مرکز بنا رہے ہیں۔
پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کی بدولت ان تمام منصوبوں میں ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر ایران، پاکستان، چین، وسطی ایشیا اور خلیجی ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوتا ہے تو اس کے معاشی فوائد پورے خطے کو حاصل ہو سکتے ہیں۔
پاکستان اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون سے توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ، سرحدی انتظام اور صنعتی شعبوں میں نئی پیشرفت متوقع ہے۔ دونوں ممالک اگر اپنی مشترکہ اقتصادی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں تو خطے میں ترقی اور استحکام کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔
اسی طرح پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اسے مختلف عالمی طاقتوں کے درمیان ایک ذمہ دار اور تعمیری کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ مستقبل میں پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہی ہوگا کہ وہ اپنے سفارتی روابط کو معاشی فوائد میں تبدیل کرے۔
ایرانی صدر کا حالیہ دورۂ پاکستان صرف ایک رسمی سفارتی ملاقات نہیں بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اس دورے نے یہ واضح کیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، مذاکرات اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ ساتھ ہی، جنوبی ایشیا میں تیزی سے بدلتی ہوئی سفارتی دوڑ نے تمام علاقائی ممالک، بشمول بھارت، کیلئے نئی سفارتی پیچیدگیاں پیدا کی ہیں۔ آنے والے دنوں میں خطے کی سیاست کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ خطے کے ممالک باہمی اختلافات اور تنازعات بالخصوص مسئلہ کشمیر کو تصادم کے بجائے سفارتکاری اور تعاون کے ذریعے کس حد تک حل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔آنے والا وقت اس کا تعین کرے گا۔







