جنیوا

جنیوا: مقبوضہ کشمیر میں موسمیاتی تبدیلی اورلاکھوں قابض فوجیوں کی تعیناتی کے تباہ کن اثرات کواجاگرکیاگیا

جنیوا :اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62ویں اجلاس کے موقع پر جنیوا میں منعقدہ ایک سیمینار میں مقررین نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں موسمیاتی تبدیلی اورلاکھوں کی تعداد میں قابض فوجیوں کی تعیناتی کے منفی اثرات کو اجاگر کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کلائمیٹ مائیگریشن رائٹس کے عنوان سے منعقدہ اس سیمینار کا اہتمام کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز نے انٹرنیشنل ایکشن فار سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کے تعاون سے کیا تھا۔ سیمینار میں سول سوسائٹی کے نمائندوں، ماحولیاتی ماہرین اور مہاجرین کے حقوق کے سرگرم کارکنوں نے شرکت کی اور موسمیاتی تبدیلی، جبری نقل مکانی اور انسانی حقوق کے درمیان تعلق پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔مقررین نے موسمیاتی تبدیلی کے عالمی سطح پر ہجرت کے رجحانات اور متاثرہ افراد کے حقوق پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں قابض فوجیوں کی تعیناتی کے باعث پیدا ہونے والے ماحولیاتی مسائل پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں طویل فوجی موجودگی جنگلات کی کٹائی، آبی وسائل پر دبائو اور ماحولیاتی نظام کی تباہی کا باعث بن رہی ہے، جو مقامی آبادی کی نقل مکانی کا باعث بن رہا ہے۔سیمینار میں مقبوضہ علاقے میں عسکری رنگ اختیار کر جانے والی ہندو امرناتھ یاترا، کے ماحولیاتی اور سماجی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ اس یاترا سے مقامی وسائل پر دبائو بڑھتا ہے، کچرے میں اضافہ اور مقامی آبادی کے روایتی ذرائع معاش متاثر ہورہا ہے، جس سے کشمیریوں کیلئے پہلے سے موجود مشکلات میں مزید اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہجرت کے رجحان میں تیزی آ رہی ہے۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے نمائندے نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی بحران نہیں بلکہ انسانی حقوق کا بھی ایک سنگین مسئلہ ہے، جو بالخصوص ایسے لوگوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے جو پہلے ہی غیر ملکی قبضے کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے حقوق کو عالمی سطح پر تسلیم اور محفوظ بنایا جانا چاہیے۔سیمینار کے اختتام پر تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں ماحولیاتی تباہی کے ذمہ داروں کے احتساب، پائیدار ماحولیاتی پالیسیوں کے نفاذ اور کشمیر سے متعلق موسمیاتی نقل مکانی کے مسائل کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے فورمز پر اجاگر کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔سیمینار کی نظامت نائلہ الطاف کیانی نے کی جبکہ مقررین میں ڈاکٹر ولید رسول، ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان، طلحہ طفیل بھٹی، ڈاکٹر سائرہ فاروق شاہ اور مہر النسا رحمان شامل تھے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button