مقبوضہ جموں و کشمیر

سانحہ کربلامحض تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ حق و انصاف کا ایک ابدی درس ہے، میر واعظ

تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات ہی سب سے موثر راستہ ہے، نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب

سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ سانحہ کربلا محض تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ حق و انصاف ، عدل اور قربانی کا ایک ابدی درس ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق واعظ نے سرینگر کی تا ریخی جامع مسجد سرینگر میں آج نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے نہ کبھی جنگ کی خواہش کی اور نہ ہی تصادم کو اپنا مقصد بنایا۔ آپؑ نے ہمیشہ اس اصول کی پاسداری کی کہ اختلافات کو حق و انصاف، اسلامی تعلیمات کی پیروی، اخلاص اور مکالمے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ لیکن جب مخالفین نے ظلم اور جبر کا راستہ اختیار کیا تو تاریخ نے ان کی ناکامی کو ہمیشہ کے لیے رقم کر دیا جبکہ حضرت امام حسین ؑاور آپ کے جاں نثار رفقاءحق پر استقامت، جرات اور عظیم قربانی کی لازوال علامت بن گئے۔ کربلا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ طاقت وقتی طور پر غالب دکھائی دے سکتی ہے، مگر بالاخر فتح حق، عدل اور اخلاقی جرات ہی کی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کربلا کا یہ سبق کسی ایک زمانے یا ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ ہر دور، ہر معاشرے اور ہر تنازع سے متعلق ہے۔ جب تکبر عقل و دانش پر غالب آتا ہے، جب طاقت کو افہام و تفہیم پر ترجیح دی جاتی ہے، اور جب مکالمے کی جگہ تصادم اختیار کر لیتا ہے، تو اس کا انجام ہمیشہ تباہی اور انسانی نقصان کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس کے برعکس جب حق، صبر اور بات چیت کو اختیار کیا جاتا ہے، تو وہ انتہائی مشکل حالات میں بھی ایسی میراث چھوڑ جاتے ہیں جسے تاریخ عزت و احترام سے یاد رکھتی ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ عسکری طاقت، خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اپنی حدود رکھتی ہیں۔ جنگیں وقتی طور پر حالات کو بدل سکتی ہیں اور بے پناہ انسانی المیوں کو جنم دے سکتی ہیں، مگر پائیدار امن اور دیرپا حل کے لیے بالاخر مذاکرات، سفارت کاری اور مدبرانہ قیادت ہی ناگزیر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی ماہ کی کشیدگی، بے تحاشا وسائل کے ضیاع اور شدید انسانی مصائب کے باوجود بالاخر فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا پڑا۔ یہ کسی فریق کی کمزوری نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ تنازعات کو مطاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی و بین الاقوامی فریقوں کی ان کوششوں کو بھی سراہا جنہوں نے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔
میرواعظ نے کہا کہ یہ سبق بالخصوص جنوبی ایشیا، خصوصاً بھارت اور پاکستان، کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی پر مشتمل یہ خطہ عظیم تہذیبی ورثے، بے پناہ انسانی صلاحیتوں اور غیر معمولی معاشی امکانات کا حامل ہے، مگر کئی دہائیوں سے سیاسی کشیدگی، باہمی بداعتمادی اور حل طلب مسائل نے یہاں کے عوام کو ان امکانات سے بھرپور استفادہ کرنے سے محروم رکھا ہے۔ اس کے منفی اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں بلکہ معاشروں کی نفسیاتی اور جذباتی کیفیت پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔
میر واعظ نے کہا کہ امن کا حصول یقیناً آسان نہیں، مذاکرات میں وقت لگتا ہے اور سفارت کاری صبر و تحمل کا تقاضا کرتی ہے، لیکن تنازعات کے حل، مفاہمت کے فروغ اور ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے یہی سب سے موثر، قابلِ اعتماد اور پائیدار راستہ ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button