مقبوضہ جموں وکشمیر:ہائی کورٹ نے پانچ افراد کی نظر بندی کو کالعدم قراردیکر ان کی رہائی کا حکم دیا

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ہائی کورٹ نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت پانچ افراد کی نظر بندی کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کی ہدایت کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جسٹس راہول بھارتی کے بنچ نے ان کی حبس بیجاکی الگ الگ درخواستیں منظورکرتے ہوئے مختلف ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کی طرف سے جاری نظر بندی کے احکامات کو مسترد کر دیا۔مدثر احمد میر کے کیس میں عدالت نے نظر بندی کا حکم نامہ منسوخ کر دیا کیونکہ حکام نظر بندی کا مکمل ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہے۔عدالت نے نظربندی کا ریکارڈ پیش کرنے کو محض ایک ایک رسمی کارروائی قرار دینے پر محکمہ داخلہ پر کڑی تنقید کی۔ایک اور کیس میں نذیر احمد ڈار کی نظر بندی اس وقت منسوخ کر دی گئی جب عدالت نے دیکھا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے پولیس سے ڈوزیئر حاصل کرنے کے بعد حکمنامہ جاری کرنے میں تقریباً دو ماہ کا وقت لگایا۔ عدالت نے کہا کہ احتیاطی نظربندی کے لیے فوری کارروائی کی ضرورت ہوتی ہے اور وضاحت کے بغیر تاخیر نے نظربندی کو قانونی طور پر ناقص بنادیا۔ہائی کورٹ کے فیصلے نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکام کی جانب سے سیاسی آوازوں کو دبانے کے لیے پبلک سیفٹی ایکٹ کے من مانے اور غیر قانونی استعمال کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔




