مقبوضہ جموں وکشمیر: بادل پھٹنے سے کئی علاقو ں میں سیلابی صورتحال، کئی رابطہ سڑکیں بند، فصلیں تباہ

سری نگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کچھ حصوں میں بادل پھٹنے کے واقعات نے بڑے پیمانے پر سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کو جنم دیا، جس سے سڑکوں کے رابطے بند ہو گئے اورگھرو ں ،سکولوں اور بازاروں میں پانی بھر گیا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق وادی چناب کا ضلع ڈوڈہ ضلع کا بھلیسہ بیلٹ زیادہ متاثر ہوا ہے ، جہاں گزشتہ روز(بدھ) کی شدید بارش کے بعد کلالگیسر اور سیرو گاوں میں بادل پھٹ گئے۔ طوفانی سیلاب نے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، سڑکوں پر بڑی مقدار میں ملبہ جمع ہوگا، ایک پل اور سڑک کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچااور کئی دیہات کا آپسی سرابطہ منقطع ہوگیا۔گندوہ میں موسمی ندی میں سیلاب کے باعث سڑک پر کیچڑ اور ملبہ جمع ہونے کے بعد ٹریفک کی نقل و حرکت میں کچھ دیر کے لیے خلل پڑا۔
کھڑی فصلوں اور زرعی اراضی کو بھی نقصان پہنچا، حکام کا کہنا ہے کہ موسم کی صورتحال بہتر ہونے پر بحالی کا کام شروع کر دیا جائے گا۔ تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ضلع ادھم پور میں، موسلا دھار بارش کی وجہ سے ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث چنانی لٹی سڑک پر تین گھنٹے سے زائد وقت کے لیے ٹریفک معطل رہی ۔جموں خطہ کے بیشتر حصوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بڑے پیمانے پر موسلادھار بارش ریکارڈ کی گئی، سانبہ میں 62.5 ملی میٹر بارش ہوئی، جموں شہر میں 35.8 ملی میٹر، کٹھوعہ میں 23.8 ملی میٹر، راجوری میں 19.6 ملی میٹر اور کٹرا میں 12 ملی میٹر بارش ہوئی۔حکام نے رہائشیوں کو مشورہ دیا کہ وہ لینڈ سلائیڈنگ اور پتھراو کے بڑھتے ہوئے خطرے کی وجہ سے خطرناک علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔دریں اثنا وادی کشمیر کے ضلع اسلام آباد کے گاﺅں گرودرمن کے میر محلہ میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہوئی اور ایک سرکاری پرائمری اسکول میں اس وقت سیلاب آ گیا جب کلاسز جاری تھیں۔ صورتحال کے پیش نظر بند طلباءکو فوری طورپر عمارت سے نکال لیا گیا۔
موسلا دھار بارش نے ضلع کے اشمقام بازار کے کچھ حصوں اور حضرت زین الدین ولی رحم اللہ علیہ کے مزار پر بھی پانی بھر دیا جبکہ کولگام، پلوامہ اور شوپیاں اضلاع کے بالائی علاقوں میں بھی بارش ہوئی۔ وادی کشمیر کے بڈگام، گاندربل اور دیگر اضلاع سے بھی بارش کی اطلاع ملی۔مقبوضہ علاقے کے محکمہ موسمیات نے 5 جولائی تک بڑے پیمانے پر گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے، محکمے نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارش ، سیلاب، پانی جمع ہونے، مٹی کے تودے گرنے کا سبب بن سکتی ہے، خاص طور پر جموں ڈویڑن، وادی چناب، پیر پنجال رینج اور وادی کشمیر کے جنوبی اضلاع زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔





