امرناتھ یاترا کے باعث پابندیوں سے نظام زندگی درہم برہم، معیشت کو نقصان
پھلوں کے کاشتکاروں کا ہائی وے پر بلاتعطل نقل و حرکت کا مطالبہ

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سالانہ امرناتھ یاترا کے باعث بھارتی حکام کی جانب سے لگائی گئی وسیع ٹریفک پابندیوں سے ایک بار پھر علاقے میں معمولات زندگی اور معاشی سرگرمیاں درہم برہم ہوکر رہ گئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی حکام نے امرناتھ یاترا کے قافلوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے 2 جولائی سے سرینگرجموں ہائی وے سمیت مقبوضہ جموں وکشمیر کی اہم سڑکوں پرعام ٹریفک کو محدود کر نے کے لئے سخت پابندیاں عائد کردی ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پابندیوں سے کشمیری پھلوں کی نقل و حمل بری طرح متاثر ہوئیہے، ٹرک ہائی وے پر طویل عرصے تک پھنسے رہتےہیں جسے پھل خراب ہوجاتے ہیں اور کاشتکاروں اور تاجروں کو مالی نقصان ہوتا ہے اور مقامی معیشت کمزور ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یاترا کے دوران سڑکوں کی بار بار بندش، سخت تلاشی، ناکے لگانے اور نقل و حرکت پر پابندیوں سے مقامی کاروبار اور سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوتا ہےجس سے رہائشیوں اورسیاحوں کو یکساں تکلیف ہوتی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پربھارتی فورسز کی تعیناتی اور یاترا کے نام پر طویل پابندیوں سے مقامی آبادی پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور ان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بھارتیحکام پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایک مذہبی رسم کے باعث علاقے میں لوگوں کے ذریعہ معاش اور معمولات زندگی میں رکاوٹیں پیدا نہ ہوں۔
دریں اثناءکشمیر ویلی فروٹ گروورز-کم-ڈیلرز یونین (KVFGU) نے ٹریفک پولیس پر زور دیا ہے کہ وہ امرناتھ یاترا کے دوران سرینگر جموں ہائی وے پر پھلوں سے لدے ٹرکوں کی بلاتعطل نقل و حرکت کو یقینی بنائے۔ یونین نے خبردار کیا کہ نقل و حمل میں کسی قسم کی تاخیر سے پھلوں کے کاشتکاروں کو بھاری نقصان ہو سکتا ہے۔کے وی ایف جی یو کے چیئرمین بشیر احمد بشیر کی قیادت میں ایک وفد نے سرینگر میں انسپکٹر جنرل آف پولیس (ٹریفک) ایم سلیمان چودھری سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ٹریفک) حسیب الرحمان بھی موجود تھے۔وفد نے امرناتھ یاترا کے قافلوں کی نقل وحرکت کے دوران ہائی وے پریک طرفہ ٹریفک سے درپیش مشکلات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ٹریفک حکام کو آگاہ کیا کہ بیر، سیب کی ابتدائی اقسام، ناشپاتی اور دیگر موسمی پھلوں کی کٹائی اور مارکیٹنگ اس وقت زوروں پر ہے اور ملک بھر کی منڈیوں تک فوری نقل و حمل کی ضرورت ہے۔وفد نے کہا کہ یہ پھل انتہائی نازک ہیں اور نقل و حمل میں ایک دن کی تاخیر بھی کافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے جس سے کاشتکاروں کو مالی نقصان ہو سکتا ہے جو پہلے ہی خراب موسم اور قدرتی آفات کی وجہ سے بہت نقصان اٹھا چکے ہیں۔ وفد نے ٹریفک پولیس سے اپیل کی کہ وہ پھلوں سے لدے ٹرکوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے پچھلے سالوں کی طرح یاترا کےقافلوں کی نقل وحرکت کے دوران بھی انہیں گزرنے کی اجازت دے۔ وفدنے کہا کہ سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے لیے علاقے کے باہر سے کشمیر میں پھلوں اور سبزیوں کی بلاتعطل آمدبھی اتنی ہی ضروری ہے۔





