بھارت :حکومت کے کامیابی کے دعووں کے باوجود بھارت میں ماو نواز شورش جاری ہے

نئی دہلی :بھارتی حکومت کے جیت کے دعووں کے باوجودبھارت کے ریڈ کوریڈور میں ماونواز شورش جاری ہے جہاں مسلسل بارودی سرنگوں کے حملے ہورہےہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سیکورٹی کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شورش اب بھی سالانہ بھارتی فورسز کے درجنوں اہلکاروں کی زندگیاں نگلتی ہے۔جنوری 2025 میں نکسلیوں نے چھتیس گڑھ کے علاقے بیجاپورمیں گھات لگا کر کیے گئے ایک حملے میں ڈسٹرکٹ ریزرو گارڈ زکے ا یک ڈرائیور سمیت نو اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔شورش کے باعث2000 سے 2025 تک12,100 سے زیادہ لوگ مارے گئے جن میںبھارتی فورسز کے 2,722 اہلکار، 4,134 عام شہری اور 5,001 ماو نواز شامل ہیں۔ اگرچہ بھارتی فورسز پر حملے 2010 میں 2,213 سے کم ہو کر 2025 میں تقریباً 400 رہ گئے، تاہم2025 میں ماﺅنواز سی پی آئی کی طرف سے بارودی سرنگوں کے حملے بڑھ کر 53 ہو گئے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2025 میں نمبالا کیشوا راو جیسے لیڈروں کو نشانہ بنانے سمیت ظالمانہ کارروائیوں سے آدیواسی قبائلی آبادی مزید دورہوگئی اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماونواز) کے لیے بھرتی کو جاری رکھنا آسان ہوگیا۔ مسلسل فوجی کارروائیوں کی حکمت عملی سے زمینوں، جنگلات اور وسائل کے حقوق پر بنیادی سماجی و اقتصادی تنازعات حل نہیں ہوئے بلکہ 1967 کی نکسل وادی بغاوت کے 58 سال بعد بھی شورش مسلسل جاری ہے۔







