اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62ویں اجلاس میں بھارت کا دوہرا معیار بے نقاب

جنیوا:اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے قیام کو 20سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ غیر رسمی اجلاس میں انسانی حقوق کے حوالے سے بھارت کا دوہرا معیار اس وقت بے نقاب ہو گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل مندوب نے ایک جانب توکونسل کے مختلف انسانی حقوق کے طریقہ کار کی لیکن ساتھ ہی انہی اداروں کی نگرانی اور احتساب کو محدود کرنے کا مطالبہ بھی کردیا۔بھارتی مندوب نے یونیورسل پیریاڈک ریویو خصوصی طریقہ کار اورٹریٹی باڈیزکو سراہتے ہوئے بیک وقت ان پر مبینہ طور پر "غیر معروضیت” اور "امتیازی رویے” کا الزام بھی عائد کیا۔ بھارت نے موثر احتساب کے بجائے نظر آنے والے نتائج اورصلاحیت سازی پر زور دیا۔بھارت کا یہ دفاعی موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کا انسانی حقوق کا ریکارڈ عالمی سطح پر شدید تنقید کی زد میں ہے۔ صرف گزشتہ سال کے دوران گجرات میں حکام نے 10ہزار سے زائد مسلم گھروں، کاروباری مراکز اور مساجد کو مسمار کیا، جبکہ اتر پردیش اور آسام میں دوران حراست اموات اور ماورائے عدالت قتل کا نشانہ بھی غیر متناسب طور پر مسلمان بنے۔مودی حکومت کو ملک بھر میں متنازع طریقہ کار کے ذریعے تقریبا 5کروڑ 20 لاکھ ووٹرز کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کرنے پر بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔اس عمل سے سب سے زیادہ مسلمان متاثر ہوئے، جبکہ مغربی بنگال کے ایک حلقے میں حذف کیے گئے ووٹروں میں 95فیصد مسلمان تھے۔آزاد ماہرین اور پینلز نے خبردار کیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف منظم نوعیت کے اقدامات انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے طریقہ کار کی تعریف اور دوسری طرف ان کے اختیارات کو محدود کرنے کی بھارتی کوشش اس بات کی عکاس ہے کہ نئی دلی حقیقی احتساب سے خوفزدہ ہے اور ایک ایسی کمزور، ریاستی مفادات تک محدود کونسل چاہتا ہے جو اس کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر موثر سوال نہ اٹھا سکے۔







