بھارت :اتر پردیش میں دن دہاڑے ہندوتوا غنڈوں کا مسلمان نوجوانوں پر تشدد
لکھنو: مودی کے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے ایک اور واقعے میں بی جے پی کے زیر اقتدارریاست اتر پردیش میں ہندوتوا غنڈوں کے ایک گروپ نے دن دیہاڑے ایک مسلمان نوجوان کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس سے لوگوں
میں غم و غصہ پھیل گیا اورانہوں نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ضلع گونڈہ کے علاقے چھترپال پوروا میں موٹرسائیکل پر سوار متاثرہ شخص کو جس کی شناخت علی کے نام سے ہوئی ہے، اکھلیش، وکاس گوتم اور روہت پاسوان نامی تین افرا د نے روکا اور لاٹھیوں سے اس پر حملہ کیا۔حملے کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتاہے کہ علی کو سڑک کے کنارے مارا پیٹا جا رہا ہے جبکہ دو آدمی آس پاس موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے خود ہی واقعے کی ویڈیو بنائی اور بعد میں اپنی بالادستی ظاہر کرنے کے لیے ویڈیو کو سوشل میڈیا پر چڑھادیا۔ سوشل میڈیا پرواقعے کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی اور صارفین نے حملہ آوروں کی بے باکی اوربے شرمی پر سوال اٹھاتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ایک صارف نے لکھاکہ یہ سراسر دہشت گردی ہے، ان لوگوں کو کس نے حق دیا کہ وہ کسی کو اس طرح ماریں؟ایک اور صارف نے لکھا کہ حملہ اتنا شدید تھا کہ ویڈیو ریکارڈ کرنا ضروری سمجھا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس ویڈیو کو قانون کی نظر میں ثبوت سمجھا جائے گا یا صرف سوشل میڈیا مواد؟متعلقہ پولیس حکام کو ٹیگ کرتے ہوئے ایک اور صارف نے لکھا کہ ان ٹھگوں کے خلاف سخت کارروائی نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ایسے واقعات اب عام ہوتے جارہے ہیں۔







