پاکستان

مکہ معاہدہ اجتماعی دفاع کی طرف ایک تاریخی قدم ہے:مسعود خان

اسلام آباد : آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور سفارت کار سردار مسعود خان نے مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کو ایک تاریخی پیش رفت اور مسلم ممالک کے لیے ایک اجتماعی دفاعی نظام قرار دیا ہے جس کا طویل عرصے سے انتظارتھا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سردار مسعودخان نے ایک آذربائیجانی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک کئی دہائیوں سے ایسا انتظام کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ گزشتہ سال دوحہ میں فلسطینی مذاکرات کاروں پر اسرائیل کے حملے کے بعد اس کی ضرورت مزیداجاگر ہو گئی جس نے خلیجی ریاستوں کو موثر دفاع تلاش کرنے پر مجبور کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ستمبر 2025 میں طے پانے والا سٹریٹجک دفاعی معاہدہ اس معاہدے کا مرکز بن گیا جس میں ترکیہ رواں سال شامل ہوا۔ مصر نے بھی شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ سردار مسعود خان نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی ہے اور اس کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو اجتماعی دفاعکے ذریعے جارحیت کے خلاف تحفظ فراہم کیا جائے۔ نیٹو کے ساتھ اس کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیٹو کے پاس 32 ارکان اور جارحانہ صلاحیتیں ہیں، مکہ معاہدہ اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے جس میں تین ارکان ہیں اور اس کی توجہ صرف دفاع پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ غزہ، مقبوضہ فلسطینی علاقوں، لبنان اور خلیج فارس کے ارد گرد آبنائے ہرمز اور باب المندب میں عدم استحکام کے درمیان سامنے آیا ہے۔مسعود خان نے کہا کہ مصر، قطر، کویت اور بحرین جیسے ممالک مستقبل میں اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس کابنیادی مقصد سفارتکاری میں سیاسی سرمائے کی سرمایہ کاری، جنگوں کو روکنے اور تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرتے ہوئے دفاع کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے میں شامل ممالک ہتھیاروں کی دوڑ نہیں چاہتے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button