بھارت

اقوام متحدہ کا بھارت میں ”ایس آئی آر” پر اظہار تشویش، اقلیتی برادریوں کے افراد کے اخراج کا اندیشہ

اقوام متحدہ :اقوام متحدہ کے تین خصوصی نمائندوں نے بھارتی الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر)کے عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکے نتیجے میں لاکھوں رائے دھندگان ، خاص طور پر اقلیتی برادریوں کے افراد انتخابی فہرستوں سے حذف کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی اخبار ”دی ہندو” کی ایک رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے اقلیتی امور ، اظہار رائے کی آزادی کے خصوصی نمائندے اور مذہبی آزادی کے خصوصی نمائندے نے بھارتی حکومت کورواں برس مئی میں ایک مراسلہ ارسال کیا جس میںکہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے زیر نگرانی خصوصی نظر ثانی عمل کے ذریعے انتخابی فہرستوں سے لاکھوں نام حڈف کیے جا رہے ہیں جس سے خاص طور پر اقلیتی برادریاں متاثر ہو رہی ہیں ۔ بھارتی حکومت کو اس مراسلے پر جواب دینے کیلئے ساٹھ روز کی مہلت دی گئی ہے ۔ دی ہندو کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایس آئی آر کے عمل میں کئی سنگین خامیاں موجود ہیں جس میں غیر شفاف مصنوعی ذہانت (اے آئی) پرمبنی نظام کا استعمال ، ناموں کے حذف ہونے کی معمولی وجوہات جیسے املاکی غلطیاں ، مطلوبہ دستاویزات جمع کرانے کیلئے ناکافی وقت ، موثر اپیل کے نظام کا فقدان اور اقلیتوں کے اخراج سے متعلق سیاسی بیانیہ شامل ہیں ۔ رپورٹ میںکہا گیا کہ خصوصی نظر ثانی کے آغاز سے قبل بعض سینئر سرکاری عہدیداروں ، جن میں مرکزی وزیر داخلہ بھی شامل ہیں ، نے ووٹر فہرستوں سے نام حذف کرنے کو غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کے خلاف کارروائی قرار دیا جس سے جائز بھارتی مسلم شہریوں کو غیرملکیوں کیساتھ جوڑنے کا تاثر پیدا ہوا۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے مغربی بنگال کے ضلع نندی گرام کا بھی حوالہ دیا جہاں انتخابی فہرست سے نکالے گئے ووٹروں میں تقریبا 95فیصد مسلمان تھے حالانکہ اس حلقے میں مسلم تناسب تقریبا 25فیصد بتایا گیا ہے۔ نمائندوں نے اس عمل کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت کے نام لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا کہ بھارت 1992کے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے اعلامیے اور 1979کے بین الاقوامی عہد نامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (آئی سی سی پی آر) سمیت متعدد عالمی معاہدوں کا فریق ہے لہذا ناموں کا حذب کیا جانا حق رائے دہی اور اقلیتی کے حقوق سے متعلق دفعات کی خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے بھارتی حکومت سے سات سوالات کے جواب طلب کیے ہیں جن میں مذہب اور نسلی بنیاد پر حذف کیے گئے ووٹروں کے تفصیلی اعداد وشمار، اپیل کے طریقہ کار اور غلط طور پر حذف کیے گئے افراد کے لیے دستیاب قانونی چارہ جوئی کی تفصیلات وغیرہ شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے طریقہ کار کیمطابق یہ مراسلہ اور بھارتی حکومت کا جواب موصول ہونے کے ساٹھ دن بعد یا اس سے پہلے جواب آنے کی صورت میں عالمی ادارے کی سپیشل پروسیجرز کمیونی کیشنز ویب سائٹ پر عام کیا جائے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button