بی جے پی مسلمان طلباءکو نشانہ بنا کر سی جے پی کی تحریک کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے: طلباءتنظیم

نئی دہلی: آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر نیہا بورا نے کہاہے کہ بی جے پی حکومت مسلمان طلباءکو نشانہ بناکر پرچہ لیک اسکینڈل کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی زیرقیادت تحریک کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کررہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نیہا بورا نے بی جے پی کی طرف سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مسلمان مظاہرین کو نمایاں کرکے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوششوں کی مذمت کی ہے۔ انہوںنے کہا کہ بی جے پی ایک طویل عرصے سے ایسی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کررہی ہے جن میں مسلمانوں کو ملکی مسائل کی وجہ کے طور پر پیش کیاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک نے تمام مذاہب اور برادریوں کے لوگوں کو متحد کیا اور اس اتحاد نے حکمران جماعت کو بے چین کر دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بالکل اسی کا خوف ہے کیونکہ وہ تقسیم کی سیاست پروان چڑھارہی ہے۔ وہ صرف اسی صورت میں اقتدار میں رہیں گے جب بھارتی تقسیم ہوں گے۔ یہ احتجاج ان کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا کیونکہ نہ صرف ایک کابینہ کے وزیر نے استعفیٰ دیا، بلکہ اس وجہ سے کہ اس نے جس قسم کی سیاست کو فروغ دیا ہے اسے چیلنج کیاگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ طلبہ کی تحریک میں ہم سب متحد ہیں۔ نیہابورانے جو جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اسکالر اور احتجاج کا ایک نمایاں چہرہ ہے، کہا کہ بی جے پی ہر کسی کی شرکت کو چھپانا چاہتی ہے اور تحریک کو فرقہ وارانہ بیانیے تک محدود کرنا چاہتی ہے۔مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ پوری تحریک میں ایک ساتھ کھڑے رہے۔ اس اتحاد کو توڑنے اور اس تحریک کو فرقہ وارانہ سیاست کی نظر کرنے کی بارہا کوششیں کی گئیں، لیکن وہ کوششیں ناکام ہوئیں۔ انہوں نے مسلسل گرفتاریوں، نگرانی اور زیر التواءایف آئی آر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کو پورا نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کولکتہ میں سی جے پی کے یکجہتی مارچ کے بعد ہونے والی گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گرفتار کیے گئے 16 افراد میں سے 15 مسلمان ہیں۔انہوں نے کہاکہ طلبہ تحریک متحد ہے، چاہے وہ جنید کے ساتھ یکجہتی کے لیے ہو یا بنگال میں گرفتار کیے گئے 16 لوگوں کے ساتھ، جن میں سے 15 مسلمان ہیں۔ بی جے پی یہ پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ احتجاج میں صرف مسلمانوں نے حصہ لیا جبکہ باقی سب اسے دور رہے۔نیہا بورا نے کہا کہ یہ تحریک صرف ایک وزیر کے استعفیٰ کے لئے نہیں تھی، بلکہ احتساب، طلباءکے لیے انصاف اور جمہوری حقوق کے لئے ہے۔







