بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں زمینوں پر قبضے کے لئے قوانین کو تبدیل کررہا ہے

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی حکومت نے یکطرفہ طور پر قوانین میں ردوبدل کیا اورنئے قوانین منظور کیے ہیں جن کے تحت کشمیریوں کی زندگیوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ علاقے میں مسلمان آبادی کو نشانہ بنانے کے لیے زمینوں پر قبضے کی مہم مسلسل جاری ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیرمیں گورننس کو عوامی خدمت کے بجائے کنٹرول کے آلے کے طورپراستعمال کیاجارہا ہے کیونکہ بھارتی حکومت نے مسلمانوں کی زمینیں چھیننے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ قابض حکام کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ بھار تی مسلح افواج کی آپریشنل اور تربیتی ضروریات کے لیے کسی بھی علاقے کو”اسٹریٹجک“ قراردے کر ان کے حوالے کردے۔ اس شق کے تحت کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فوجی اور کارپوریٹ مقاصد کے لیے زمینوں پر قبضہ کیاجارہا ہے اور مقامی لوگوں کودہشت گرد قرار دے کر ان کی املاک کے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں۔
جموں و کشمیر زرعی اصلاحات ایکٹ 1976 میں ترامیم کرکے مقبوضہ جموں وکشمیرکی زرعی اراضی کو بھارت کے نجی اداروں کو کاشتکاری، رہن اور لیز پر دینے کا راستہ کھولا گیا ہے۔رپورٹس بتاتی ہیں کہ مجموعی طورپرتقریباً 20 لاکھ کنال اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ بھارتی فوج نے پہلے ہی 1,054.751 کنال اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے۔ایک مذموم مہم کے تحت بغیر پیشگی اطلاع کے دکانیں اور مکانات مسمار کیے جارہے ہیں۔ مہم میں منظم طریقے سے مقامی مسلمانوںاور ان کی املاک کو نشانہ بنایا جارہا ہے، انہیں اپنی ہی سر زمین پر تجاوزات کرنے والوںکے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ کریک ڈاو¿ن کا دائرہ میڈیا تک بھی بڑھا دیا گیا ہے۔مقامی صحافیوں کو خاموش کرانے اور واقعات کے بارے میں بھارتی موقف کو پیش کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کو علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے، جبکہ صحافیوں کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیاجارہا ہے اور ان پر مختلف الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کے دور میں مقبوضہ جموں وکشمیرمیں آبادیاتی اور معاشی منظر نامے کو تبدیل کرنے کے لئے کشمیریوں کی زمینوں پر قبضے کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے۔





