بھارت

بھارتی سپریم کورٹ نے سونم وانگچک کی گرفتاری کو غیر قانونی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قراردیدیا

نئی دلی:
بھارتی سپریم کورٹ نے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی قومی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتاری کو "غیر قانونی او بنیادی حقوق خلاف ورزی قراردیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے ان خیالات کا اظہار سونم وانگچک کی غیر قانونی نظربندی کے خلاف انکی اہلیہ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کیا۔ سپریم کورٹ نے سماعت 8دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل سپریم کورٹ نے بنچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی جانب سے وانگچک کی اہلیہ کی طرف سے دائر عرضداشت پر جواب دینے کیلئے مہلت کی درخواست پر مقدمے کی سماعت ملتوی کی ۔سونم وانگچک کی اہلیہ نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیاہے کہ سونم وانگچک کی نظر بندی کے حکم کی بنیاد ایک پرانی ایف آئی آرزاورقیاس آرائی پر مبنی مبہم الزامات ہیں ،جس سے انکے شوہر کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ یہ مکمل طور پر مضحکہ خیزبات ہے کہ لداخ اور پورے بھارت اوربین الاقوامی سطح پر تعلیم، جدت اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے انکی خدمات کے اعتراف کے تین دہائیوں بعد، وانگچک کو اچانک قومی سلامیت ایکٹ کے تحت گرفتار کیاگیاہے ۔انہوں نے کہا کہ 24ستمبر کو لہہ میں ہونے والے تشدد کے افسوسناک واقعات کو کسی بھی طرح سے وانگچک کے اقدامات یا بیانات سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔وانگچک نے خود اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ کے ذریعے نہ صرف تشدد کی مذمت کی بلکہ واضح طور پر کہا کہ تشدد لداخ کی "پر امن جدوجہد”کی ناکامی کا باعث بنے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button