قابض حکام نے جموں میں کئی مکانات مسماراورضبط کرلئے

جموں: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے ضلع جموں میں کئی مکانات مسماراورضبط کرلئے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے مسماری مہم مشترکہ طور پر توی اور بشنہ علاقوں میں چلائی۔ حکام نے بتایا کہ آپریشن کے دوران غیرقانونی طریقے سے حاصل کی گئی آمدنی سے تعمیر شدہ 3 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیدادیںمسمار کی گئیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک مشترکہ ٹیم نے تحصیل بشنہ کے علاقے اسماعیل پور کوٹھی میں تقریباً 1.5 کروڑ روپے مالیت کے دو منزلہ مکان کو مسمار کر دیا۔ایک اور مشترکہ ٹیم نے توی کے علاقے میںسرکاری اراضی پرتعمیر شدہ مزید دوافراد کے مکانات کو مسمار کیا جن کی مالیت تقریباً 1.3 کروڑ روپے ہے۔ضلع سانبہ میں بڑی برہمنہ کے علاقے اپر بلولے میںایک اور کارروائی میں پولیس نے تقریباً 21 لاکھ روپے کی جائیداد ضبط کر لی جس میں ایک کچا مکان بھی شامل ہے۔پولیس کے ایک ترجمان نے بتایاکہ یہ ضبطی انسداد منشیات کے قانون(این ڈی پی ایس) کے تحت کی گئی ہے۔قابض بھارتی حکام نے اگست2019ءمیں دفعہ 370کی منسوخی کے بعد کشمیریوں کو ان کی زمینوں اورجائیدادوں سے بے دخل کرنے کا سلسلہ تیز کردیا تاکہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جاسکے۔








