بھارت

ایس آئی آر کی تحقیقات کے لیے بھارتی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سابق ججوں پر مشتمل آزاد پینل تشکیل

پانچ رکنی کمیشن ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل کی آئینی و قانونی حیثیت، طریقہ کار اور مجموعی اثرات کا جائزہ لے گا

نئی دہلی: بھارت میں وکلاء کی ایک تنظیم نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر فہرستوںں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی(ایس آئی آر) کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سابق ججوں پر مشتمل ایک پینل تشکیل دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ”لائرز ایسوسی ایشن فار کانسٹی ٹیوشن”(ایل اے ایف سی)نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سابق جج مدن بی لوکر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے اس عمل کی آئینی و قانونی حیثیت، طریقہ کار اور مجموعی اثرات کا جائزہ لے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق ججوں پر مشتمل یہ نو تشکیل شدہ آزاد کمیشن اہل ووٹرز پر ایس آئی آر عمل کے آئینی و قانونی جواز، طریقہ کار اور مجموعی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے مکمل خود مختاری کے ساتھ کام کرے گا۔
پینل میںمدن بی لوکر کے علاوہ سپریم کورٹ کے سابق جج اے کے پٹنائک، جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس بدر دریز احمد اور سابق جج ریکھا شرما اور انجنا پرکاش شامل ہوں گے۔بیان کے مطابق کمیشن دیگر امور کے علاوہ اس بات کا جائزہ لے گا کہ آیا اہل شہریوں کو ووٹر لسٹ میں برقرار رکھا گیا اور آیا نااہل افراد کے نام درست طریقے سے ہٹائے گئے۔کمیشن ملک بھر میں عوامی سماعتیں منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے کمیشن کے مکمل اور علاقائی بینچ مختلف مقامات کا دورہ کریں گے تاکہ متاثرہ شہریوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور ماہرین کی آرا اور بیانات ریکارڈ کیے جا سکیں۔
ایل اے ایف سی نے کہا کہ کمیشن اپنی تحقیقات کے نتائج اور سفارشات کا مکمل ذمہ دار ہوگا۔ تنظیم نے بتایا کہ کئی سینئر وکلا جن میں کپل سبل، پرشانت بھوشن، چندرا ادے سنگھ، پرشانتو چندرا سین، راجو رام چندرن، ربیکا مامین جان، واریشہ فراست اور ورندا گروور کمیشن کو اسٹریٹجک قانونی مشورے دیں گے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button