کل جماعتی حریت کانفرنس کی مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی شدید مذمت

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی فورسز کی طرف سے جاری فوجی کارروائیوں، گرفتاریوں اور دیگر مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فورسز نے وادی کشمیر میں گزشتہ چند دنوں کے دوران 3500 سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو گرفتار کیا اور دو رہائشی مکانات کو مسمار کیا۔ ترجمان نے ضلع بڈگام کے علاقے پکھیر پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران بھارتی فورسز کی طرف سے عائد پابندیوں اور جمعہ اور دیگر نمازوں کے ساتھ ساتھ اذان کی اجازت نہ دینے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس/بی جے پی حکومت مقبوضہ علاقے میں”اکھنڈ بھارت“کا ہندوتوا ایجنڈامسلط کرنے کے لیے اپنی فوج اور پولیس کو استعمال کر رہی ہے۔بھارتی فورسز نے گزشتہ چند دنوں سے پکھیر پورہ کے علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران لوگوں کو علاقے میں آنے اور جانے اور مسجد میں نماز ادا کرنے سے روک دیا۔حریت ترجمان نے کہا کہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور کالے قوانین 1947 سے بالخصوص 1989 کے بعد کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو دبانے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرامن تحریک آزادی اپنے منطقی انجام تک جاری رہے گی۔انہوں نے بھارتی جیلوں میں نظربند حریت رہنماﺅں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جن میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، نعیم احمد خان، ایاز محمد اکبر، شاہد الاسلام، معراج الدین کلوال، پیر سیف اللہ، فاروق احمد ڈار، فہمیدہ صوفی،ناہیدہ نصرین، ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم، مشتاق الاسلام، مولوی بشیر احمد عرفانی، بلال صدیقی، محمد رفیق گنائی، فیاض حسین جعفری، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، غلام قادر بٹ، ڈاکٹر حمید فیاض، نور محمد فیاض، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، حیات احمد بٹ، ایڈووکیٹ زاہد علی،عمرعادل ڈار، سلیم نناجی، محمد یاسین بٹ، ظہور احمد بٹ اور دیگر شامل ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ کشمیری عوام تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور اب وقت آگیا ہے کہ بھارتی حکومت اپنی ہٹ دھرمی ترک کرے اور دیرینہ تنازعے کے حل کے لیے اقدامات کرے۔ بیان میں بین الاقوامی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی ریاستی دہشت گردی پر اپنی خاموشی توڑدے اور مزید تاخیر کئے بغیربھارت کو دیرینہ تنازعہ کشمیر کو حل کرنے پر مجبور کرے۔







