مقبوضہ جموں و کشمیر

کپواڑہ میں بھارتی فوج فیلڈ ٹیکٹیکل ہیڈکوارٹر قائم کررہی ہے،کئی دیہات خالی کرا لیے

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کپواڑہ میں ایک فیلڈ ٹیکٹیکل ہیڈکوارٹر قائم کر رہی ہے جس کے لئے علاقے کو ایک فوجی چھاو¿نی میں تبدیل کیا گیاہے اور لولاب اور کیرن کے علاقوں میں اہم سڑکوں پر واقع کئی دیہات خالی کرا لیے گئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق کپواڑہ کے ڈپٹی کمشنر نے فیلڈ ٹیکٹیکل ہیڈکوارٹر کے قیام کے لیے کنڈی کیگام کے آس پاس کی آبادیوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی نے مقامی آبادی کے لیے زندگی مزید مشکل بنا دی ہے، جبکہ کپواڑہ قصبے سے تقریباً 15 کلومیٹر دور کنڈی کیگام اور پنزگام کے علاقوں میں فوجی بریگیڈ کا ڈپو قائم کئے جارہے ہیں۔اردگرد کے دیہات کے لوگوں کو اپنے گھر خالی کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں، جبکہ بھارتی فوج نے مزاحمت کرنے یا اعتراض کرنے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے اپنے غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے پہلے ہی مقبوضہ جموں و کشمیر میں 10 لاکھ سے زائد فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مزید فوجی ہیڈکوارٹرز کا قیام اور فوجیوں کی تعداد میں اضافہ بھارت کے مذموم عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔
دریں اثناءکپواڑہ سیکٹر میں کنٹرول لائن پر بھارتی فوجیوں کی تعیناتی میں بھی نمایاں اضافہ کیا جا رہا ہے اور علاقے میںبھاری فوجی سازوسامان منتقل کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات بی جے پی کی زیرِ قیادت بھارتی حکومت کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون کی نشاندہی کرتے ہیں اور ایک اور فالس فلیگ آپریشن کی تیاریوں کے حوالے سے خدشات کو جنم دیتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مخالف اور کشمیردشمن بی جے پی حکومت کو اندرونِ ملک بڑھتے ہوئے مسائل کا سامنا ہے جن میں طلبہ کا احتجاج، بے روزگاری، مہنگائی اور دیگر مسائل شامل ہیں جس کے باعث اس کی سیاسی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نئی دہلی ان مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے اور اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے راستے تلاش کر رہی ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ نئی دہلی اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے مہم جوئی یا ایک اور فالس فلیگ آپریشن کا سہارا لے سکتی ہے اور ایسی کوئی بھی کارروائی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button