خصوصی رپورٹ

بی جے پی حکومت بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں مذہب کی بنیاد پر اقلیتوں کو نشانہ بنا رہی ہے: رپورٹ

اسلام آباد : آج جب دنیا بھر میں مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کا عالمی دن منایاجارہا ہے، کشمیریوں اور بھارت میں اقلیتوں کے خلاف مظالم کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
اس دن کے حوالے سے کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی جانب سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز کشمیری عوام کو اپنے مذہبی فرائض اداکرنے اور عبادات کے حق سے بھی محروم کر رہی ہیں جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کو جمعہ کی نمازاداکرنے اور دیگر مذہبی تقریبات میں شرکت سے روکا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیاکہبھارت نے کشمیری عوام کی سیاسی اور مذہبی آزادی سمیت تمام حقوق سلب کررکھے ہیں۔رپورٹ کے مطابق آبادی کے تناسب میں تبدیلی اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کشمیریوں کوان کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنا رہا ہے۔ بی جے پی کی حکومت میں بھارت کی مذہبی اقلیتوں کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔ گائے ذبح کرنے کے الزامات کی آڑ میں بھارتی مسلمانوں کو قتل، گرفتار اور تشدد کا نشانہ بنانا اور انہیں زبردستی ”جے شری رام“ کا نعرہ لگانے پر مجبور کرنا مہذب دنیا پر ایک بدنما داغ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 2002 کا گجرات قتلِ عام، بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں مسلمانوں کی ہلاکتیں اور حالیہ دنوں میں نئی دہلی میں طلبہ کے خلاف طاقت اور پیلٹ گنوں کا استعمال اقلیتوں کو نشانہ بنائے جانے کی واضح مثالیں ہیں۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ ہندوتوا نظریے سے وابستہ آر ایس ایس، بی جے پی، وی ایچ پی، بجرنگ دل اور دیگر تنظیمیں مسلمانوں، دلتوں، عیسائیوں، سکھوں اور بھارت کی دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت بھر میں اسلاموفوبیا میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔آر ایس ایس کئی ہندو قوم پرست جماعتوں بالخصوص بی جے پی کے نظریات اور پالیسیوں پر نمایاں طورپر اثرانداز ہوئی ہے ۔ بی جے پی اس وقت بھارت میں برسراقتدار ہے۔ بی جے پی کے آر ایس ایس کے ساتھ تاریخی روابط ہیں اور دونوں متعدد بنیادی اصولوں میں یکسانیت رکھتے ہیں۔ بی جے پی نے ہمیشہ ہندو مفادات کے تحفظ اور ترقی کو ترجیح دی ہے اور ہندوتوا کے نظریے سے ہم آہنگ پالیسیاں نافذ کی ہیں۔ایسی پالیسیوں میں متنازع شہریت ترمیمی قانون (CAA)، قومی رجسٹر برائے شہری (NRC) اور ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر شامل ہیں۔بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ یکساں سول کوڈ، دفعہ 370 کا خاتمہ اور ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر ہمیشہ بی جے پی کے منشور کا حصہ رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی اور حکمران بی جے پی جو ہندو قوم پرستی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اوران کی قیادت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی تیز ہوا ہے۔
انسانی حقوق کے بین الاقوامی اور بھارتی اداروں نے بھی بھارت میں مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات، ہراسانی، نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان کی تصدیق کیہے، خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔ہیومن رائٹس واچ کی ایشیا ڈائریکٹر ایلین پیئرسن کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیاکہبھارتی حکومت نے امتیازی پالیسیوں، نفرت انگیز بیانات اور سیاسی بنیادوں پر مقدمات کے ذریعے مذہبی اقلیتوں، پسماندہ طبقات اور ناقدین کے خلاف تشدد کو ایک معمول بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہندو قوم پرست تنظیموں کی طرف سے نفرت انگیز تقاریر اور مسلمانوں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حکام مسلمانوں کے گھروں اور املاک کو غیر قانونی طور پر منہدم کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ستمبر 2025 میں لداخ میں خودمختاری کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کے دوران بھارتی فورسز نے چار افراد کو ہلاک کر دیا۔ حکام نے موبائل انٹرنیٹ بند کر دیا اور ماحولیاتی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچک کو قومی سلامتی ایکٹ کے تحت ایک سیاسی نوعیت کے مقدمے میں گرفتار کیا۔ متعدد کارکن جن میں طلبہ بھی شامل ہیں، کالے قانون کے تحت بغیر کسی فردِ جرم کے جیل میں نظربند رہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام نے سیاسی کارکنوں، سول سوسائٹی تنظیموں اور بی جے پی کے سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے اور ان کے خلاف مقدمات قائم کرنے کے لیے غیر ملکی فنڈنگ کے قوانین، کالے قوانین، من گھڑت مالی تحقیقات اور دیگر ذرائع کو بھی استعمال کیا۔ اتر پردیش، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان جیسی ریاستوں میںگائے کے تحفظ کے نام پر ہجومی تشدد اور عیسائیوں کی دعائیہ مجالس اور کرسمس کی تقریبات میں خلل ڈالنے کے واقعات بھی بڑے پیمانے پر رپورٹ ہوئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ دہلی، ہریانہ، اتر پردیش، مغربی بنگال، اتراکھنڈ اور مدھیہ پردیش میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات اور بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد سے متعلق فیصلہ اس امر کے شواہد ہیں کہ بھارت مسلمانوں کے لیے بتدریج غیر محفوظ بنتا جا رہا ہے۔ بھارتی فورسز اورسادہ لباس میں ملبوس افراد نے حال ہی میں منی پور اور آسام میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کی مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا ۔انسانی حقوق کی رپورٹس میں نام نہاد "بلڈوزر جسٹس” یعنی فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات کے بعد سزا کے طور پر املاک منہدم کرنے کے عمل پر بھی تنقید کی گئی ہے جس میں مسلمانوں کی املاک کو خاص طورپر نشانہ بنایاگیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت عروج پر ہے اور آر ایس ایس کی حمایت یافتہ مودی حکومت مذہبی اقلیتوں کو ہراساںکرنے کے لیے دہشت کو بطور پالیسی استعمال کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس سے متاثر بی جے پی حکومت شہریت ترمیمی قانون (CAA)، قومی آبادی رجسٹر (NPR) اور قومی رجسٹر برائے شہری (NRC) جیسے امتیازی قوانین کے ذریعے مسلمانوں کی نسلی کشیکی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی حکومت مذہبی اقلیتوں کی بنیادی آزادیوں کو پامال کر رہی ہے۔سینکڑوں مسلمانوں اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) کے ممتاز اسکالرز اور طلبہ کارکنوں کو جن میں عمر خالد اور شرجیل امام بھی شامل ہیں، 2020 سے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون (UAPA) کے تحت بھارتی جیلوں میں نظر بند رکھاگیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بی جے پی حکومت نے جھوٹے الزامات لگاکر ہریانہ کے فریدآباد میں واقع الفلاح یونیورسٹی اور اس کے طبی شعبے کا بھی کنٹرول سنبھال لیا ہے۔رپورٹ میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر اور بھارت میں مذہبی بنیادوں پر تشدد کا شکار افراد کی فریاد سنے۔ رپورٹ میں کہا گیاکہ دنیا کو کشمیری عوام اور بھارت کی مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے اور بی جے پی کی زیرِ قیادت ہندوتوا حکومت کو کشمیری عوام اور بھارت کی مذہبی اقلیتوں کے خلاف جرائم پر جواب دہ بنانا ہوگا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ عالمی برادری کو پہلے ہی بھارت او رمقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کے خطرے سے خبردار کیا جا چکا ہے ، بھارت میں مسلمان، دلت اور عیسائی اپنے مذہبی عقیدے کی وجہ سے مکمل طور پر غیر محفوظ ہیں۔ یادرہے اقوام متحدہ نے مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کاعالمی دن منانے کے لئے آج کا دن مقررکیاتھا جس کا مقصد ریاستوں پر زور دینا ہے کہ وہ مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر عدم برداشت، امتیاز ی سلوک اور تشدد کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button