مضامین

دہشت گردی کے متاثرین کا دن: کشمیر کے زخم، پاکستان کی وکالت اور عالمی ضمیر

تحریر: ارشد میر

دنیا میں کچھ دن محض کیلنڈر کی تاریخیں نہیں ہوتے، وہ انسانیت کے اجتماعی ضمیر کے سامنے رکھے گئے آئینے ہوتے ہیں۔ دہشت گردی کے متاثرین کا عالمی دن بھی ایسا ہی ایک دن ہے جو کل منایا گیا اور خاموشی سے یوں گذر گیا کہ نہ تو متاثرین کے ساتھ کوئی ہمدردی ہوئی ، نہ حقیقی، یعنی ریاستی دہشت گردوں کی نشاندہی کرکے ان کی مذمت کی گئی ،نہ انسانیت کے قاتل اور امن کے دشمن دہشت گردوں کو کوئی تردد ہوا اور نہ ہی عالمی ضمیر کو کوئی جنبش ہوئی۔ بس کلینڈر میں درج دہشت گردی کے متاثرین سے منسوب ایک رسمی دن گذرگیا۔ تاہم اپنے پیغام میں یہ دن ایک ایسا دن ہے جو باور کراتا ہے کہ دہشت گردی صرف لاشوں کا ڈھیر نہیں، بلکہ ان کے پیچھے رہ جانے والی ماؤں کی خاموش سسکیاں، یتیم بچوں کی خالی آنکھیں، اجڑے گھروں کی ویرانی اور برسوں تک جاری رہنے والا خوف بھی ہے۔ مگر اس دن کی اصل معنویت اسی وقت قائم رہ سکتی ہے جب دنیا ہر متاثرہ انسان کے دکھ کو یکساں انسانی ہمدردی اور انصاف کی نگاہ سے دیکھے، چاہے وہ کسی بھی خطے، مذہب یا قوم سے تعلق رکھتا ہو۔
یہاں یہ بات مدنظر رکھنا بہت ضروری ہے کہ دہشت گردی کی تمام شکلوں میں سب سے زیادہ ہولناک اور تباہ کن شکل ریاستی دہشت گردی ہےکیونکہ جب خود ریاست ہی دہشت گردی کا ذریعہ بن جائے تو ظلم محض چند افراد یا کسی مسلح گروہ کی کارروائی نہیں رہتا بلکہ اسے حکومت، قانون، سرکاری اداروں، ریاستی وسائل اور طاقت کے پورے نظام کی پشت پناہی حاصل ہوجاتی ہے۔ریاستی دہشت گردی اس لیے بھی زیادہ خطرناک ہے کہ اسے اپنے جرائم چھپانے کے لیے ریاستی بیانیے، قوانین، عدالتوں، انتظامی مشینری اور سیاسی اثر و رسوخ کا سہارا حاصل ہوتا ہے۔ بیرون دنیا میں سفارتی و تجارتی تعلقات، عالمی طاقتوں سے روابط اور ریاستی پروپیگنڈا بھی اس کے لیے ایک ڈھال بن جاتے ہیں۔ یوں مظلوم کے پاس فریاد کے لیے آواز تو ہوتی ہے مگر ظالم کے پاس اپنی آواز کو سچ ظاہر کرنے کے لیے پوری ریاست کھڑی ہوتی ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان نے دہشت گردی کے متاثرین کے عالمی دن کے موقع پر ایک نہایت اہم اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی جبر دہشت گردی کی ہر تعریف پر پورا اترتا ہے۔ پاکستان نے کشمیری عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارتی غاصبین کے ہاتھوں عشروں سے جبری گمشدگیوں، من مانی گرفتاریوں، کالے قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی پامالی کا سامنا کر رہے ہیں مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے حصول کے عزم پر قائم ہیں۔
پاکستان کا یہ بیان ایک رسمی اور سفارتی ردعمل سے زیادہ دہشت گردی کے خلاف اس کے اپنے طویل اور خون آلود تجربے کی آواز بھی ہے۔ پاکستان نے یاد دلایا کہ اس کے ہاں بھارت ہی کی سرپرستی میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں جبکہ ملکی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یہ اعداد محض ہندسے نہیں بلکہ ہر ہندسہ ایک گھر، ایک خاندان، ایک ماں، ایک باپ، ایک بچے اور ایک نام کی داستان ہے۔ پاکستان نے جس بھارتی دہشت گردی کا سامنا کیا ہے، اس کی قیمت اس نے صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اپنے بازاروں، عبادت گاہوں، اسکولوں، مساجد، سڑکوں اور گھروں میں بھی ادا کی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا یہ مطالبہ نہایت اہم ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی ردعمل دوہرے معیار سے پاک، غیر جانب دار، مستقل اور منصفانہ ہونا چاہیے۔ اگر ایک جگہ معصوم شہریوں کا قتل دہشت گردی ہے تو دوسری جگہ بھی اسے اسی نام سے پکارا جانا چاہیے۔ اگر کسی ملک کے شہریوں کی جان، آزادی اور عزت عالمی ضمیر کے لیے اہم ہے تو مقبوضہ کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق بھی اسی انسانی پیمانے پر پرکھے جانے چاہئیں۔
اسی روز کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی رپورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے زخموں کی ایک اور ہولناک تصویر دنیا کے سامنے رکھی ہے جس میں یہ رونگٹھے کھڑے کرنے والے یہ اعدادو شمار شامل ہیں کہ جنوری 1989 سے اب تک 96,502 سے زائد بے گناہ کشمیری بھارتی فوجی کارروائیوں میں شہید کیے جا چکے ہیں، جبکہ آٹھ ہزار سے زائد افراد دورانِ حراست لاپتا ہوئے۔ 22,993 سے زائد خواتین بیوہ اور 108,011 سے زائد بچے یتیم ہوئے جبکہ سیتا کے پجاری راون صفت بھارتی فوجیوں نے 38 برسوں کی اس پیہم ریاستی دہشت گردی میں کم از کم 11,285 خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ قابل ذکر ہے کہ متعدد بین الاقوامی رپورٹس میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ بھارت کشمیری کواتین پر جنسی حملوں کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔یہ بھی ریاستی دہشت گردی کی بھیانک شکل کی ایک تصدیق ہے۔
یہ اعداد روح کو زخمی کر دیتے ہیں۔ ذرا تصور کیجیے 96 ہزار سے زائد قبریں، 22 ہزار سے زائد اجڑے سہاگ، ایک لاکھ سے زیادہ یتیم بچے اور ہزاروں ایسے خاندان جو آج بھی اپنے پیاروں کی واپسی یا کم از کم ان کے انجام کی خبر کے منتظر ہیں۔ یہ کسی ایک دن کی خبر نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر پھیلی ہوئی انسانی المیے کی داستان ہے۔ اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ دنیا کے شور میں ان خاموش چیخوں کی آواز اکثر دب جاتی ہے۔
رپورٹ اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ 5 اگست 2019 کو ہندو فسطائی مودی سرکار کی طرف سے جمہوریت اور اکثریت کے نام پر جمہوریت کُشی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد سے بھارتی ریاستی دہشت گردی نے نیا، ادارہ جاتی اور زیادہ شدت والا روپ دھار لیا۔قبرستان کی سی جبری خاموشی قائم کی گئی ہے جہاں بھارتی سیاسی نرسری سے وابستہ لوگوں کو بھی پوری سیاسی مکانیت حاصل نہیں ہے۔ سیاسی آوازوں، آزاد میڈیا، خبروں کی اشاعت اور سوشل میڈیا تک پر آمرانہ ار فسطائی پابندیاں عائد کی گئیں۔جبر کا کوڑا ہر کس و ناکس پہ برستا ہے اور المیہ یہ کہ اف کرنا بھی قابل سزائ جرم بن جاتا ہے۔ اور پھر مسئلہ صرف جسمانی جبر تک محدود نہیں بلکہ آواز، اظہار اور سیاسی وجود کو محدود کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ لاکھوں فوجیوں کے مظالم، تحقیقاتی ایجنسیوں کی بدمعاشیوں اور کالے قوانین کی زنجیروں کے بے مہار استعمال کے ساتھ ساتھ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ہندو فسطائی مودی سرکار کی پالیسیوں اور منصوبوں کے باعث مقبوضہ علاقے میں مسلم مخالف نفرت بھی خطرناک حد تک بڑھی ہے۔
اس پس منظر میں اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے یہ مطالبہ بالکل بجا ہے کہ وہ محض بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ ان تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے مؤثر دباؤ ڈالیں جو نامساعد اور غیر انسانی حالات میں بھارتی جیلوں اور مقبوضہ علاقے کی زندان گاہوں میں قید ہیں۔ پاکستان نے بھی واضح کیا ہے کہ دنیا کو دہشت گردی کے تمام متاثرین اور بچ جانے والوں کی بلاامتیاز حمایت کرنی چاہیے۔
اور پھر اسی درد کی ایک زندہ علامت میرواعظ عمر فاروق کا بیان سامنے آتا ہے۔ دو ہفتوں کی پابندی کے بعد سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کا خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنی بار بار کی نظر بندی اور مذہبی سرگرمیوں پر پابندیوں کو ایک دانستہ ریاستی پالیسی کا حصہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید پابندیاں عائد کرنے والے غاصبین اس تاریخی مسجد کی معنویت اور تاریخ کو سمجھ نہیں پاتے۔ جامع مسجد کا منبر نسلوں سے لوگوں کی دینی و اخلاقی تربیت کا مرکز ہی نہیں رہا بلکہ مشکل ادوار میں کشمیری عوام کی آواز اور ان کے احساسات و خواہشات کے اظہار کا ذریعہ بھی رہا ہے۔میرواعظ کا یہ عزم کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی اس میراث کو تمام پابندیوں اور مشکلات کے باوجود آگے بڑھاتے رہیں گے، دراصل کشمیر کی اس اجتماعی روح کی ترجمانی ہے جسے طاقت، قید، پابندی اور خاموشی سے ختم نہیں کیا جا سکا۔ منبر پر کھڑے ایک شخص کی آواز بظاہر محدود کی جا سکتی ہے مگر ایک قوم کے احساسِ انصاف کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
دہشت گردی کے متاثرین کا عالمی دن تو خود دنیا کی بے انصافی پر مبنی ترجیحات سے متاثر ہوکر خاموشی سے گذر گیا مگر رسمی سا ہوکر رہ جانے کے باوجود دہشت گردی میں صرف مرنے والوں کو یاد ہی نہیں کراتا بلکہ زندہ رہ جانے والوں کے زخم بھی دکھاتا ہے۔ پاکستان کے 90 ہزار سے زائد شہداء ہوں یا کشمیر کے 96,502 سے زائد شہداء، المیہ تبھی مکمل طور پر سمجھ میں آئے گا جب ہر انسانی جان کو یکساں قدر دی جائے گی۔جب دہشت گردی کی اصل اور بھیانک شکل یعنی ریاستی دہشت گردی کو سمجھا جائے گا اور اسکے انسداد کے لئے سیاسی، معاشی اور سفارتی مصلحتوں کو ترک کرکے منصفانہ اور جرات مندانہ موقف اختیار کیا جائے گا۔
دنیا کو آج فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اعداد کے پیچھے چھپے انسانوں کو دیکھے گی یا خاموشی کو اپنا مقدر بنائے گی۔ کشمیر کے پہاڑ آج بھی گواہ ہیں، جیلوں کی دیواریں آج بھی راز سنبھالے ہوئے ہیں، ماؤں کی آنکھیں آج بھی اپنے بیٹوں کو ڈھونڈ رہی ہیں اور جامع مسجد کا منبر آج بھی ایک ایسی آواز کا منتظر ہے جو خوف سے آزاد ہو۔
شاید یہی اس خاموش دن کا سب سے بڑا شور بھرا پیغام ہے کہ دہشت گردی کے ہر متاثرہ انسان کا دکھ ہمارا دکھ ہے، ہر بے گناہ کا خون انصاف کا تقاضا کرتا ہے اور ہر دبائی گئی آواز انسانیت کے ضمیر پر ایک سوال ہے۔ جب تک دنیا اس سوال کا منصفانہ جواب نہیں دیتی، تب تک یہ دن صرف یاد کا دن نہیں رہے گا۔یہ عالمی ضمیر کے خلاف ایک خاموش فردِ جرم بھی رہے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button