بی جے پی کے” بہتر” کا مطلب ملک کے لئے مہلک ہوتا ہے:راہل گاندھی

نئی دہلی21جون (کے ایم ایس)بھارت میں کانگریس رہنماراہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقیدکا نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ ان کی اب تک لائی گئی اصلاحات سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اور عوام کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق راہل گاندھی نے ایک ٹویٹ میںنئی فوجی بھرتی اسکیم اگنی پتھ کے خلاف ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے کہاکہ حکومت نوجوانوں کو یہ سمجھانے کی ہزارہا کوشش کر رہی ہے کہ یہ اسکیم ان کے لئے سودمند ثابت ہوگی تاہم نوجوانوں کے غصے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔انہوںنے مودی حکومت کے کئی منصوبوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے وقت کے ساتھ بہتری والے فائدوں کے نتائج ملک کے عوام ہر روز برداشت کر رہے ہیں۔انہوں نے نوٹ بندی، جی ایس ٹی، سی اے اے، ریکارڈ مہنگائی، ریکارڈ بے روزگاری، کالے زرعی قوانین اور اب اگنی پتھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے اچھے یعنی بہتر کا مطلب ملک کے لئے مہلک اور نقصان دہ ہوتاہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے ان منصوبوں کا اعلان کرتے وقت بڑے بڑے دعوے کئے تھے لیکن عوام نے ان کی مخالفت کی تھی۔ مثلا نوٹ بندی کے وقت مودی نے کہا تھا کہ اس سے معیشت کو کافی فائدہ ہوگا اور بدعنوانی ختم ہو جائے گی لیکن اس فیصلے سے بھارتی عوام کو جن مشکلات سے گزرنا پڑا اس کی تاریخ گواہ ہے۔ مودی نے کہا تھا کہ اس منصوبے سے طویل مدتی فائدے حاصل ہوں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔اسی طرح حکومت نے جی ایس ٹی کے بھی بہت سے فائدے گنوائے تھے لیکن اس کی وجہ سے چھوٹے کاروباریوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور چھوٹی صنعتیں ابھر نہیں پا رہی ہیں۔ سی اے اے یعنی شہریت ترمیمی قانون نافذ کرتے ہوئے مودی حکومت نے کہاتھاکہ اس سے پڑوسی ممالک میں ظلم و ستم کا شکار اقلیتوں کو فائدہ ملے گا لیکن اس میں مسلمانوں کو شامل نہ کئے جانے کے سبب ملک بھر میں شدید احتجاج کیا گیا۔ مودی حکومت نے اس فیصلے کو واپس تو نہیں لیا لیکن اب اس معاملے پر شاذ و نادر ہی کوئی بات کرتی ہے۔زرعی قوانین کے فیصلے کو نافذ کرتے ہوئے مودی حکومت نے بے شمار فائدے بتائے تھے لیکن کسانوں نے اتنے بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کیا کہ بی جے پی حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئی اوران کو واپس لینا پڑا۔ یہی کچھ اگنی پتھ اسکیم کے بارے میں کہاجارہا ہے۔ مودی حکومت اور بی جے پی رہنمامسلسل اس اسکیم کے فائدے گنوارہے ہیں لیکن نوجوان سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: