مقبوضہ جموں و کشمیر

بی جے پی حکومت خواتین کے تحفظ سے زیادہ گائو رکشا کو ترجیح دے رہی ہے: محبوبہ مفتی

سرینگر :غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیرمیں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھارت میں خواتین کے تحفظ کی ابتر صورتحال پر مودی حکومت کوکڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو گائورکشا کے بجائے خواتین کے جنسی تشدد سے تحفظ پر توجہ مرکو ز کرنی چاہیے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محبوبہ مفتی کا یہ بیان اتر پردیش سے تعلق رکھنے والی 16سالہ لڑکی کے ساتھ رواں ماہ گریٹر نوئیڈا سے دہلی جاتے ہوئے ایک بس میں اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے۔ پولیس نے واقعے کے سلسلے میں بس کے ڈرائیور اور کنڈکٹر سمیت دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہبی جے پی کے بھارت میں گائے کا تحفظ خواتین کے تحفظ سے زیادہ ترجیح بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ گائے ذبح کرنے کے محض شبہے پر ہجوم کے ہاتھوں لوگوں کو قتل کیا گیا جبکہ سزا یافتہ جنسی مجرموں کو اب بھی پیرول اور سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر گائے کے نام پر ہجومی تشدد اور نگرانی کے لیے صرف کی جانے والی توانائی کا نصف بھی خواتین کے تحفظ پر صرف کیا جائے تو بھارت ہر بیٹی، بہن اور ماں کے لیے کہیں زیادہ محفوظ ملک بن سکتا ہے۔پولیس کے مطابق 11ویں جماعت کی 16 سالہ طالبہ کو 4اگست کی شب اس وقت جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جب وہ پری چوک کے قریب ایک بس میں سوار ہوئی تھی۔
اس واقعے نے 2012کے دہلی کے نربھیا اجتماعی زیادتی اور قتل کے واقعے کی یاد تازہ کردی ہے، جس میں ایک خاتون کو چلتی بس میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button