جنیوا :کشمیری وفد کاخطرناک مادوں اور فضلے کے انسانی صحت اورماحولیات پر پڑنے والے ا ثرات پر اظہار تشویش
جنیوا: ایک کشمیری وفد نے آج جنیوا میں انسانی حقوق کے لئے ماحول دوست نظام کے اثرات اور خطرناک مادوں اور فضلے کی تلفی سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ڈاکٹر بیتھنی کارنی المروتھ کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی۔
یہ ملاقات اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ وفد میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ، سینئر حریت رہنما شمیم شال اور انسانی حقوق کی معروف کارکن پروفیسر شگفتہ اشرف شامل تھیں۔وفد نے خصوصی نمائندے کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہریوں کو زہریلے اور خطرناک مادوں سے لاحق شدید خطرات اور اس کے نتیجے میں ان کی صحت اور انسانی حقوق پر پڑنے والے اثرات سے آگاہ کیا۔
وفد نے بتایا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرکے ہسپتالوں میں پیدا ہونے والا بایومیڈیکل فضلہ بغیر کسی تلفی کے شہری آبادیوں کے قریب کھلے علاقوں میں پھینکا جا رہا ہے۔ اس فضلے میں متعدی نوکیلی اشیا، خون آلود پٹیاں، پیتھالوجیکل فضلہ، استعمال شدہ سرنجیں اور زائد المیعاد ادویات شامل ہوتی ہیں۔ وفد نے کہا کہ بایومیڈیکل ویسٹ مینجمنٹ رولز 2016 پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث ڈمپنگ سائٹس کے قریب رہنے والے لوگوں میں ہیپاٹائٹس، جلدی انفیکشنز اور سانس کی بیماریوں سمیت متعدی امراض پھیل رہے ہیں۔
وفد نے کہا کہ بھارتی فوجی کیمپوں اور فوجی قافلوں سے پیدا ہونے والا انسانی فضلہ، استعمال شدہ انجن آئل، بیٹری ایسڈ، ڈیزل اور دیگر کیمیائی فضلہ مقامی ندی نالوں اور زمین پر پھینکا جا رہا ہے۔ اس طرح کے خطرناک فضلے نے کئی اضلاع میں پینے کے پانی کے ذخیروں کو آلودہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں معدے کی بیماریوں، گردوں کے امراض، جلدی بیماریوں اور دیگر دائمی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وفد نے کہا کہ شہریوںکو خطرناک مادوں کے سامنے لانا انسانی حقوق کا ایک سنگین مسئلہ ہے جو خصوصی نمائندے کے مینڈیٹ کے دائرے میں آتا ہے۔
وفد نے خصوصی نمائندے کی توجہ سالانہ امرناتھ یاترا کے ماحولیاتی اثرات کی طرف بھی مبذول کرائی۔ وفد نے کہا کہ بھارتی حکام ہر سال بھارت کے دیگر علاقوں سے لاکھوں یاتریوں کی آمد کی حوصلہ افزائی اور سہولت کاری کرتے ہیں جس کے نتیجے میں پولی تھین بیگز، پلاسٹک کی بوتلوں اور دیگر فضلے کی بڑی مقدار پیدا ہوتی ہے۔ وفد کے مطابق اس فضلے کا کچھ حصہ لِدر ندی اور دیگر آبی گزرگاہوں میں پھینک دیا جاتا ہے یا کھلے عام جلا دیا جاتا ہے۔ پلاسٹک کے فضلے کو کھلے عام جلانے سے ڈائی آکسِنز اور فیورانز سمیت زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں جو صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
وفد نے ضلع پلوامہ میں کھریو، ووین اور کھنموہ کے صنعتی علاقے کے آس پاس رہنے والے لوگوں کی مشکلات کو بھی اجاگر کیا، جہاں ایک درجن سے زائد سیمنٹ فیکٹریاں کام کر رہی ہیں۔ وفد نے کہا کہ ان فیکٹریوں سے خارج ہونے والے دھوئیں اور ذرات میں سلیکا، کرومیم، سیسہ اور الکلائن مرکبات سمیت خطرناک دھول اور آلودگی شامل ہوتی ہے۔ وفد نے کہا کہ طویل عرصے تک اس آلودگی کا سامنا کرنے کے باعث مقامی آبادی میں سانس اور دیگر صحت کے مسائل پیدا ہوئے ہیں، جن میں سلیکوسس، دائمی دمہ، برونکائٹس، پھیپھڑوں میں فائبروسس، آنکھوں کے انفیکشن اور جلدی بیماریاں شامل ہیں۔وفد نے کہا کہ متاثرہ افراد کی تعداد معلوم نہیں کیونکہ آبادی کی صحت کا کوئی جامع جائزہ نہیں لیا گیا۔ فیکٹریوں کے کارکن ذاتی حفاظتی آلات تک ناکافی رسائی کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں۔






