مقبوضہ جموں و کشمیر میں لیکچررز کی ابتر صورتحال، 2 ہزار سے زائد برسوں سے ترقیوں اور مراعات کے منتظر
سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں 4 ہزار سے زائد انچارج لیکچررز، جن میں 2 ہزار سے زیادہ ریٹائرڈ اور اتنی ہی تعداد میں حاضر سروس لیکچررز شامل ہیں، اپنی ترقیوں کی باضابطہ منظوری اور ان عہدوں سے وابستہ مراعات کے منتظر ہیں۔ ان میں سے بعض اپنے معاملات کے فیصلے کا انتظار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر مسلسل غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے محکمہ تعلیم نے 36 مضامین میں اساتذہ کو انچارج لیکچررز کے طور پر ترقی دی تھی، لیکن ان ترقیوں کی باضابطہ منظوری تاحال نہیں ہو سکی، جس کے باعث ملازمت سے وابستہ ان کے جائز حقوق اور مراعات کی ادائیگی میں تاخیر ہو رہی ہے۔
مخمور احمد بچو کو 1997 میں محکمہ تعلیم میں بطور استاد تعینات کیا گیا تھا اور 2013 میں انہیں کامرس کے لیکچرر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ وہ اس سال ریٹائر ہو گئے، لیکن انہیں بدستور ماسٹر اسکول ٹیچر کے عہدے کے مطابق تنخواہ ملتی رہی، جس پر انہیں 2010 میں ترقی دی گئی تھی۔ بچو نے 13 سال تک مختلف اسکولوں میں کامرس کے طلبہ کو پڑھایا اور بطور گزٹڈ افسر مختلف فرائض سرانجام دیے، اس کے باوجود وہ ماسٹر کے عہدے کی تنخواہ ہی وصول کرتے رہے۔
ولایت حسین کو 2014 میں انچارج لیکچرر کے طور پر ترقی دی گئی تھی اور وہ اپریل 2022 میں ریٹائر ہوئے۔ وہ بھی اپنی ترقی کی باضابطہ منظوری کے منتظر ہیں اور 2014 سے لیکچرر کے طور پر خدمات انجام دینے کے باوجود ماسٹر کے عہدے کی بنیاد پر پنشن وصول کر رہے ہیں۔
بچو اور حسین کے علاوہ، 2013 کے بعد ترقی پانے والے 2 ہزار سے زائد انچارج لیکچررز ترقیوں کی باضابطہ منظوری میں تاخیر کے باعث ملازمت سے متعلق مراعات حاصل کیے بغیر ہی ریٹائر ہو چکے ہیں۔
بچو نے ایک بھارتی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے سول سیکرٹریٹ میں اپنی فائلیں ایک محکمے سے دوسرے محکمے تک پہنچائیں۔ ان برسوں کے دوران ہم درجنوں افسران سے ملے، لیکن بطور لیکچرر ہماری ترقی کی باضابطہ منظوری کا عمل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔‘‘
جنوبی کشمیر کے ضلع اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے استاد راوی جیت سنگھ نے بتایا کہ انہیں 2019 میں پنجابی کے انچارج لیکچرر کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی، لیکن انہیں ابھی تک ترقی کی باضابطہ منظوری یا متعلقہ مراعات نہیں مل سکیں۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے خدشہ ہے کہ میں لیکچرر کے طور پر باضابطہ منظوری حاصل کیے بغیر ہی ریٹائر ہو جاؤں گا، حالانکہ یہ میرا حق ہے۔‘‘
سنگھ نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران ان کے کئی ساتھی انتقال کر گئے، جبکہ ان کی فائلیں سول سیکرٹریٹ میں التوا کا شکار رہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری فائلیں دھول چاٹ رہی ہیں۔‘‘
ریٹائر ہونے والے لیکچررز کے علاوہ، 2019 میں ماسٹر کے عہدے سے انچارج لیکچرر کے عہدے پر ترقی پانے والے 2 ہزار سے زائد حاضر سروس لیکچررز گزشتہ سات برس سے تنخواہوں میں عدم مساوات کا سامنا کر رہے ہیں، کیونکہ ان کی ترقیوں کی باضابطہ منظوری نہیں ہو سکی ہے۔
انچارج لیکچرر بشیر احمد پڈر نے کہا، ’’ہمیں بھی اپنی ترقی کی باضابطہ منظوری کا انتظار ہے۔ سول سیکرٹریٹ کے مختلف دفاتر میں فائلوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔‘‘
پڈر نے بتایا کہ لیکچررز کو گزٹڈ افسران کی ذمہ داریاں تو سونپی گئیں، لیکن انہیں تنخواہ ماسٹر کے عہدے کے مطابق ہی ملتی رہی۔
ناصر شبیر، جنہیں 2019 میں انگریزی کے انچارج لیکچرر کے طور پر ترقی دی گئی تھی، وہ بھی اپنی ترقی کی باضابطہ منظوری کے منتظر ہیں اور اس حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں کہ آیا ان کی ملازمت کو لیکچرر کی سطح پر تسلیم کیا جائے گا یا نہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں چارج الاؤنس بھی ادا نہیں کیا جاتا۔ حکومت کو ہمارا مسئلہ حل کرنا چاہیے اور ہمارے ساتھ بھکاریوں جیسا سلوک نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
دریں اثنا، مقبوضہ علاقے کے محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ ان معاملات کا جائزہ ہیومن ریسورس مینجمنٹ سیکشن لے رہا ہے، جہاں لیکچررز کی دستاویزات کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
تاہم، ناصر شبیر نے کہا، ’’یہ عمل گزشتہ ایک دہائی سے جاری ہے۔ ہم محکمہ تعلیم کے افسران سے وہی پرانے دلائل سن رہے ہیں۔ محکمہ خزانہ ہماری ترقیوں کی باضابطہ منظوری سے اتفاق کر چکا ہے، اس کے باوجود ہمارا محکمہ ہماری فائلوں کی منظوری نہیں دے رہا۔‘‘
ہزاروں انچارج لیکچررز کی یہ ابتر صورتحال مقبوضہ علاقے میں اساتذہ کے ساتھ بھارتی حکومت کے ناروا سلوک اور انتظامی غفلت کی عکاس ہے۔






