بھارت ایک ناقابلِ اعتماد اتحادی قرار
جو جاسوسی کرتاہے، وفاداریاں بدلتا ہے اور شراکت داروں کو نقصان پہنچاتا ہے
اسلام آباد:بھارت ایک ناقابلِ اعتماد اتحادی ہے جو اپنے دوست ممالک کی جاسوسی کرتاہے، وفاداریاں بدلتاہے اور شراکت داروں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کی طر ف سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق روس، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بیک وقت اسٹریٹجک شراکت داریاں قائم رکھنے کی بھارتی کوششیں اس کی خارجہ پالیسی میں موجود تضادات کو بے نقاب کرتی ہیں۔
یوکرین جنگِ کے دوران روسی تیل کی خریداری سے لے کر فلسطینیوں کی تکالیف کے باوجود اسرائیل کے ساتھ تعاون تک، بھارت اصولوں کے بجائے اپنے تزویراتی مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔بھارت کی خارجہ پالیسی اورمذموم انٹیلی جنس سرگرمیوں پر متعدد سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق، نئی دہلی مشترکہ اصولوں کے بجائے اپنے تزویراتی مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ اس طرزِ عمل سے بھارت کے بین الاقوامی تشخص اور شراکت داروں کے اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے نام نہاد دعویدار بھارت کے طرزِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اتحادوں کو مستقل شراکت داری کے بجائے اپنے مفادات کے حصول کا ایک عارضی ذریعہ سمجھتا ہے۔ 2025-26کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق نریندر مودی کے زیر قیادت بھارت اپنے شراکت داروں کے مفادات کو نقصان پہنچانے اور انہیں کمزور کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
بھارت نے اس عرصے کے دوران روسی تیل کی بڑے پیمانے پر خریداری جاری رکھی۔ رواں سال کے وسط میں روسی تیل کی درآمدات 2.6 سے 2.8 ملین بیرل یومیہ سے بھی تجاوز کر گئیں۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بڑے پیمانے پر ٹیرف کے نفاذاورعالمی دبائو کے باعث روسی تیل کی درآمد تقریبا 1.1سے 1.7ملین بیرل یومیہ رہی، تاہم بھارت روس سے تیل کی درآمد مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے ۔
یوکرین جنگ کے دوران بھارت نے اقوامِ متحدہ میں متعدد مواقع پر غیر جانب دارانہ رہنے یا رائے شماری میںحصہ نہ لینے کاراستہ اختیار کیا۔ دوسری جانب روس کے ساتھ اس کے تجارتی تعلقات برقرار رہے۔ ناقدین اسے معاشی مفادات کو بین الاقوامی سیاسی دبایو پر ترجیح دینے کی مثال قرار دیتے ہیں۔ ایران کے معاملے میں بھی بھارت کا یہی دوہرا طرزِ عمل سامنے آتا ہے۔ پابندیوں کے دبائو کے تحت ایران سے تیل کی بڑے پیمانے پر درآمدات میں کمی کی گئی، لیکن اس کے باوجود بھارت نے اپنے تزویراتی مفادات اور مستقبل کے ممکنہ راستے مکمل طور پر بند نہیں کیے۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت ہتھیاردرآمد کرنے والادنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے، جس کی اسلحے کی عالمی درآمدات میں حصہ تقریبا 8.2 سے 8.3 فیصد ہے۔ اس فہرست میں بھارت سے آگے صرف جنگ زدہ یوکرین ہے۔ بھارت کی ہتھیاروں کی درآمدات میں روس کا حصہ تقریبا 40فیصد، فرانس کا 29فیصد اور اسرائیل کا 15فیصد ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بھارت 74ہزار سے زائد مظلوم فلسطینیوںکی نسل کشی میں ملوث اسرائیل کے ساتھ اپنے دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔دوسری جانب خلیجی ممالک میں تقریبا76لاکھ بھارتی شہری روزگارکیلئے مقیم ہیں جبکہ پورے خلیجی خطے میں بھارتی افرادی قوت کی مجموعی تعداد تقریبا 90لاکھ ہے۔ ان کارکنوں کی ترسیلاتِ زر بھارتی معیشت کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہیں۔
مغربی اور خلیجی ممالک کے سکیورٹی ادارے 2025-26میں بھی مذموم بھارتی انٹیلی جنس سرگرمیوں کو ایک سنجیدہ سکیورٹی خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ صورتِحال بھارت کے اس دعوے پر سوالات اٹھاتی ہے کہ وہ اپنے شراکت داروں کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کرتا ہے۔ مختلف ممالک میں بھارتی اہلکاروں یا ان سے مبینہ روابط رکھنے والے افراد پر غیر ملکی مداخلت اور بیرونِ ملک مخالفین کو نشانہ بنانے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
کینیڈا کی کینیڈین سکیورٹی انٹیلی جنس سروس کی 2025 کی سالانہ رپورٹ میں بھارت کو غیر ملکی مداخلت اور سرحد پار جبر کی سرگرمیوں میں ملوث اہم ممالک میں شمار کیا گیا ہے۔ کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل اور بھارتی حکام سے متعلق الزامات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو بڑی حد تک متاثر کیا۔امریکہ میں سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی مبینہ سازش کے معاملے میں بھی قانونی کارروائی ہوئی۔ امریکی استغاثہ نے اس معاملے میں بھارتی شہریوں کے مبینہ کردار سے متعلق الزامات پیش کیے۔ ان الزامات نے بیرونِ ملک مخالفین کو نشانہ بنانے کی مبینہ سرگرمیوں پر مزید توجہ مرکوز کی۔آسٹریلیا میں بھی بھارتی انٹیلی جنس سے منسلک مبینہ سرگرمیوں پر تشویش سامنے آئی۔ آسٹریلیا نے مبینہ طور پر دفاعی ٹیکنالوجی، سیاست دانوں اور بیرونِ ملک مقیم بھارتی برادری سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی سرگرمیوں کے بعد بھارتی خفیہ ایجنسی سے منسلک متعدد اہلکاروں کو ملک بد رکیا۔جرمنی میں بھارتی شہریوں کو سکھ اور کشمیری برادریوں کی جاسوسی سے متعلق مقدمات میں سزا سنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ان واقعات نے یورپ میں مذموم بھارتی انٹیلی جنس سرگرمیوں اور بیرونِ ملک مقیم برادریوں کی نگرانی کے حوالے سے تشویش کو بڑھایا۔قطر میں بھارتی بحریہ کے آٹھ سابق افسران کو 2022میں جاسوسی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں ان کی سزائے موت تبدیل کردی گئی اور بیشتر افسران 2024تک رہا ہوگئے۔
بھارت کا یہ طرزِ عمل محض عدم وابستگی یا غیر جانب داری نہیں، بلکہ مفادات کے مطابق بار بار وفاداریاں بدلنے، دوسرے ممالک کی خودمختاری کو متاثر کرنے اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کے الزامات سے عبارت ہے۔
بھارت اپنی عسکری صلاحیتوں اور عالمی کردار کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ وہ بین الاقوامی سطح پر جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی حمایت کا دعویدار بھی ہے۔ تاہم، مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں اور آزادیِ اظہار کی صورتحال پر بھارت کو مسلسل تنقید کا سامنا ہے۔ ملک میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق خدشات بھی اس کے عالمی تشخص پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
ناقدین کے مطابق، اتحادی ممالک کی سرزمین پر بھارتی انٹیلی جنس سرگرمیوں سے متعلق الزامات اعتماد کے لیے سنگین چیلنج ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات کی شفاف تحقیقات اور قانونی جواب دہی ضروری ہے۔2025-26 کی عالمی صورتِ حال میں بھارت کے طرزِ عمل نے اس بنیادی سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ آیا اس کی شراکت داریاں مشترکہ اصولوں پر قائم ہیں یا محض وقتی مفادات پر؟







