مودی بھارت کو مسلمانوں کے قتل عام کی طرف دھکیل رہے ہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل، جینو سائیڈ واچ

واشنگٹن ڈی سی 15 جنوری (کے ایم ایس) انسانی حقوق کے عالمی نگراں اداروں ایمنسٹی انٹرنیشنل یو ایس اے اور جینوسائیڈ واچ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی اسلامو فوبک پالیسیاں اور ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے مسلمانوں کی نسل کشی کے حوالے سے اشتعال انگیز تقاریر پر انکی خاموشی بھارت کو بڑے پیمانے پر تشدد اور مسلمانوں کے قتل عام کی طرف دھکیل رہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ماہرین نے واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ کانگریس کی بریفنگ میں کہا کہ مسلمانوں کے خلاف تعصب کی مذمت اور ان کے خلاف کارروائی کرنے میں مودی کی ناکامی کی وجہ سے حالیہ ہفتوں میں سرکردہ ہندو مذہبی اور سیاسی شخصیات کی نفرت انگیز تقاریر جنکا مقصد مسلمانوں کے خلاف تشدد کو بڑے پیمانے بڑھکانا ہے میں اضافہ ہوا ہے۔ جینوسائیڈ واچ کے صدرDr Gregory Stantonنے کہا کہ گزشتہ ماہ شمالی بھارت کے شہر ہردیوار میں منعقدہ ہندو راہبوں کے اجتماع کا مقصد ہندﺅں کومسلمانوں کی نسل کشی پر اکسانا تھاا۔نہوں نے کہا بھارت کے رہنما کی حیثیت سے نریندر مودی کی ذمہ داری ہے کہ وہ نسل کشی والی تقاریر کی مذمت کری لیکن انہوں نے اسکے خلاف بات نہیں کی۔بھارت اور کشمیر کے امور کے ماہرGovind Achayra نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ اجتماع میںشرکا کھلے عام ہندوو¿ں سے بھارتی مسلمانوں کے ساتھ روہنگیا کے مسلمانوں جیسا سلوک کرنے کی تاکید کریں اور اس پر فخر کریں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام کی کالوں کا مقصد بھارت پر ہندو بالادستی قائم کرنا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اور اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے اس ہفتے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں دھرم سنسد کی طرف سے کھلے عام اشتعال انگیزی اور نفرت کا دفاع کیا تھا۔ آچاریہ نے کہا کہ بھارت کے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کا ماحول عروج پر ہے۔انہوں نے کہا کہ ہریدوار کی تقریب میں ہندو مہاسبھا کے ایک اعلیٰ مذہبی رہنما نے کھلے عام 20 لاکھ مسلمانوں کو مارنے کے لیے ہندوو¿ں کی فوج بنانے کا مطالبہ کیا۔ نئی دہلی میں منعقدہ ایک اور تقریب میں سینکڑوں شرکا نے ہندو مذہب کے تحفظ کے لیے قتل عام کا حلف اٹھایا۔ دوسری جگہوں پر سکول کے بچوں کو ”مارو اور مرنے “ کی قسمیں کھاتے ہوئے دیکھا گیاجبکہ بی جے پی کے سیاست دانوں نے مسلمانوں کے خلاف تشدد بھڑکانے کی تقاریر کا دفاع کیا ۔Dr Stanton کہا کہ مودی کی مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد کی ایک طویل تاریخ ہے جس کا آغاز 2002 کے گجرات قتل عام سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جنتا پارٹی کی پالیسیوں کے تحت مودی نے اپنی سیاسی بنیاد بنانے کے لیے مسلم مخالف، اسلام فوبک بیان بازی کا استعمال کیا ہے´ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن میں نسل کشی کا خاص طور پر احاطہ کیا گیا ہے جس کا مقصدکسی قومی، نسلی، مذہبی یا نسلی گروہ کی مکمل یا جزوی طور پر تباہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بالکل اسی طرح ہے جو میانمار کی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کیا تھا اور اب ہمیں بھارت میں بالکل اسی طرح کی سازش کا سامنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: