مولانا عباس انصاری کو تحریک آزادی کشمیر کیلئے گرانقدر خدمات پرشاندار خراج عقیدت
اسلام آباد:کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے زیر اہتمام سینئر حریت رہنماء اور اتحاد المسلمین جموں و کشمیر کے بانی چیئرمین مولانا محمد عباس انصاری کی برسی کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اسلام آباد میں ایک تعزیتی ریفرنس منعقد کیاگیا ۔
ریفرنس کی صدارت کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے کی۔ریفرنس سے حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنمائوں محمد فاروق رحمانی، محمود احمد ساغر، میر طاہر محسود، شمیم شال اور شیخ عبدلمتین نے خطاب کیا۔ مقررین نے مولانا عباس انصاری کی تحریکِ آزادی کشمیر کے لیے گرانقدر خدمات، سیاسی جدوجہد اور قربانیوںپر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
غلام محمد صفی نے کہا کہ مولانا عباس انصاری ایک بااصول شخصیت، بصیرت افروز سیاسی رہنما، ممتاز عالم دین، مبلغ اور مصنف تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی تحریک آزادی کشمیر اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ تنازع کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد اور خدمات تاریخ کشمیر کا اہم باب ہیں، جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
محمد فاروق رحمانی نے کہاکہ مولانا عباس انصاری اتحاد، اتفاق اور نظم و ضبط کے داعی تھے اور انہوں نے اس بات زوردیاکہ باہمی اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے ہی تحریکِ آزادی کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے افکار و نظریات آج بھی کشمیری عوام اور تحریک آزادی سے وابستہ کارکنوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کی زندگی جدوجہد، استقامت اور اصول پسندی کی روشن مثال ہے۔
مقررین نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیری عوام کی حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کو کمزور کرنے کیلئے انہیں ظلم و جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کانشانہ بنارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری قیادت اور عوام کے درمیان اتحادو اتفاق اورثابت قدمی پر زوردیا۔انہوںنے عالمی برادری پرزوردیاکہ وہ کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور انہیں حقِ خودارادیت دلانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے۔
ریفرنس کے اختتام پر مولانا عباس انصاری سمیت تمام شہدائے کشمیر کے درجات کی بلندی، اسیرانِ حریت کی رہائی اور امت مسلمہ کی سربلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ اس موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کے لیے بھی دعا کی گئی، جو بدترین حالات اور ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔









