نئی دلی:بی جے پی حکومت نے ‘سی جے پی” کی ریلی کو ناکام بنانے کیلئے شہر کو چھائونی میں تبدیل کر دیا
پویس نے ابھیجیت دیپکے کو حراست میں لیا ، پابندیوں کے باوجود ''سی جے پی'' کارکنوں ، طلباء کااحتجاج
نئی دلی: بھارتی پولیس نے نوجوانوں کی جماعت ‘کاکروچ جنتا پارٹی ”سی جے پی ”کے بانی ابھیجیت دیپکے کو نئی دہلی میں طے شدہ ایک احتجاج سے قبل حراست میں لے لیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ابھیجیت دیپکے کی گرفتاری بھارت کے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے کے لیے نکالی جانے والی تازہ ترین ریلی سے قبل عمل میں آئی ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے پیش نظر بی جے پی حکومت نے دہلی کو مکمل طور پر فوجی چھائونی میںتبدیل کر دیا تھا اور بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کر دی تھیں ۔
نئی دہلی اور ملحقہ علاقوں میں 30ہزار سے زائد پیرا ملٹری اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیاگیاتھا۔ سی جے پی (سی جے پی )نے اعلان کیا تھا کہ وہ (آج )جمعہ کی شام 5 بجے کناٹ پلیس میں” لہرا دو ترنگا ”کے عنوان سے ریلی نکالے گی۔پارٹی نے اس ریلی کا اعلان چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ااستعفے کیاپنے مطالبے پر زور دینے کیلئے کیا تھا۔
چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا یہ مطالبہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی( ایس آئی آر) کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی حکومت کے اشارے پر کیے جانے والے ایس آئی آر کے اس متنازعہ عمل میں بھارت بھر میں اب تک لاکھوں لوگوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا جا چکا ہے جن میں اقلیتوں برادریوںکے افراد بالخصوص مسلمان شامل ہیں ۔
سی جے پی نے کارکنوں نے آج کے احتجاج کے لیے دلی کے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں جمع ہونے کی اپیل کی تھی۔پلیس اور اس کے آس پاس 6ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
بھارتی میڈیارپورٹس میںکہاگیا کہ فورسز کی بھاری پولیس نفری کی موجودگی کے باوجود کاکروچ جنتا پارٹی’کے سینکڑوں، کارکنوں، حامیوں اور طلبہ تنظیموں کے اراکین نے ہاتھوں میںترنگا تھامے وسطی دہلی کے کناٹ پلیس اور منڈی ہاس میں کے آس پاس ریلیاں نکالیں اور احتجاجی مظاہرے کیے ۔
جب پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی تو مظاہرین اور پولیس کے درمیان معمولی جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ”سی جے پی ‘بانی ابھیجیت ڈپکے کو اس مارچ کی قیادت کرنی تھی، لیکن احتجاج میں شامل ہونے کے لیے جب وہ دلی کے علقے جھنڈے والا میں واقع اپنے گھر سے نکل رہے تھے، تو انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
یا درہے پیرا ملٹری سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کے 26,ہزار اہلکار پہلے ہی گزشتہ ایک ہفتے سے وسطی دہلی میں تعینات ہیں۔ یہ تعیناتی سی جے پی، اپوزیشن جماعتوں، بائیں بازو کے گروہوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے حوالے سے کیے جانے والے مظاہروں کے تناظر میں کی گئی تھی۔”







