مقبوضہ جموں و کشمیر

کشمیری خاتون افسرکیساتھ بھارتی افسر کا توہین آمیز سلوک، مقبوضہ کشمیرمیں غم و غصہ

بھارتی افسر کا نازیبا رویہ دراصل کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا نتیجہ ہے، حریت کانفرنس

  • فاروق عبداللہ کا راجیو رجن کا جموں وکشمیر سے باہر منتقلی کا مطالبہ، رنجن کا رویہ نا قا بل قبول ہے، محبوبہ مفتی
  • کشمیریوں کو اس صورتحال سے دفعہ 370کے خاتمے نے دوچارکیا ہے، روح اللہ

سرینگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ایک بھارتی افسر کی طرف سے کشمیری خاتون افسر کوآن لائن جائزہ اجلاس کے دوران انتہائی توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے نے علاقے میں بڑے پیمانے پرغم وغصے کو جنم دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس افسر راجیورنجن نے کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس افسر بینش وانی کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز رویہ اختیار کیا اورانکا موقف سنے بغیرانہیں معطل کرنے کی دھمکی دی۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے جس میں بھارتی افسر کو انتہائی غصے میں خاتوں افسر کو ڈراتے دھمکاتے دیکھا جاسکتاہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بھارتی افسرکے توہین آمیز رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی قبضے میں کشمیریوں کی عزت و وقار ، جان ومال ، تہذیب و شناخت کچھ محفوظ نہیں۔ انہوں نے خاتون کشمیری افسر کے ساتھ بھر پور اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بے لگام بھارتی افسر کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔انہوںنے کہا کہ بھارتی افسر کا ایک کشمیری خاتوں افسر کے ساتھ ایسا نازیبا رویہ دراصل دکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا نتیجہ ہے۔ترجمان نے کیا کہ بی جے پی حکومت نے بنیادی طورپر دفعہ 370اور 35اے کا خاتمہ کشمیریوں کو دیوا ر کیساتھ لگانے ، ان کی شناخت مٹانے اور انہیں اپنے ہی وطن میں اجنبی بنانے کیلئے کیا ہے۔ انہوں نے کشمیریوں پر زور دیا کہ وہ کشمیراور کشمیریوں کے خلاف مذموم بھارتی منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کو مزید مضبوط بنائیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ کشمیری بھارت کی تمام سازشوں ، چالوں اور ریشہ دوانیوںکے باوجود اپنے لاکھوں شہدا ء کے عظیم مشن کی تکمیل تک اپنی جدوجہد ہر قیمت پر جاری رکھیںگے۔
جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس ایسوسی ایشن نے واقعے کے خلاف آج ایک روزہ قلم چھوڑ ہڑتال کی۔ ایسوسی ایشن نے ایک بیا ن میں کہا کہ ہڑتال کا مقصد کشمیری افسروں کے وقار، خودداری اور ادارہ جاتی عزت کی پاسداری کرنا ہے۔
نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے سرینگر میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے توہین آمیز رویے پر بھارتی افسر کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کشمیرسے انکے تبادلے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ واقعے کی ویڈیو دیکھ کر انہیں شرمندگی محسوس ہوئی۔ انہوںنے خاتون افسر کے خلاف استعمال کی گئی زبان کو "ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ رنجن کی سرزنش کی جانی چاہیے اور انہیں جموں و کشمیر سے ہٹا دینا چاہیے۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی رنجن کے رویے کو "ناقابل قبول” قرار دیا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو بھارتی حکومت کے سامنے اٹھائیں اور سخت کارروائی کا مطالبہ کریں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس پر ایک پوسٹ میں،محبوبہ مفتی نے رنجن کے خلاف غیر قانونی اسلحہ لائسنس جاری کرنے سے متعلق الزامات کا بھی حوالہ دیا اور مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو نئی دہلی کے ساتھ اٹھایا جائے۔ رنجن کو بھارتی (سی بی آئی )نے 2020 میں بطور ڈپٹی کمشنرکپواڑہ غیرقانونی طور پر اسلحہ لائسنس جاری کرنے کے کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔
نیشنل کانفرنس کے رہنما اور سرینگرحلقے سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا سیدروح اللہ نے ایکس پر لکھا ” دفعہ 370 کے خاتمے نے وقار کو مجروح کیا ہے ۔ بھارتی آئی اے ایس افسر نے ایک کشمیری خاتون افسر کے ساتھ بدتمیزی کی، سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہ یہ شخص ایک خاتون کے کیریئر کو تباہ کرنے کی دھمکی دے رہا ہے، صرف اس لیے کہ اس خاتون نے اپنی بات مکمل کرنے کی اجازت مانگی تھی۔دفعہ 370 کے خاتمے نے ہمیں اس صورتحال سے دوچار کیا ہے۔ ہر سطح پر وقار پر حملہ ہو رہا ہے۔
کشمیری خاتون افسر کی توہین کا یہ واقعہ نہ صرف محکوم کشمیریوں کیساتھ بھارتی افسر شاہی کے نوآبادیاتی سلوک کا عکاس ہے بلکہ اس بات کا بھی مظہر ہے کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت کس طرح سے اپنے ہندو تو ا افسروں کو مقبوضہ علاقے کے مقامی افسروں کو ہراساں کرنے اور انہیں دبائے رکھنے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button