بھارت :مدھیہ پردیش میں آر ایس ایس کے اجلاس میں شرکت سے انکار پر دلت پروفیسر کو ہراساں کیا گیا

نئی دہلی:بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع سدھی میں ایک دلت پروفیسر کوراشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے ایک اجلاس میں شرکت سے انکار کرنے پر دھمکیوں، بدسلوکی اورحملے سمیت شدید ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گورنمنٹ آرٹس اینڈ کامرس کالج کے مہمان فیکلٹی ممبر رامجس چوہدری نے بتایا کہ جب میں نے اجلاس میں شرکت سے انکار کیاتومجھے چار فیکلٹی ممبران راج کشور تیواری، سندیپ شرما، وپیندر دیویدی اور ڈاکٹر سریش کمار تیواری نے نشانہ بنایا۔انہوں نے کہاکہ جب میں نے انکار کیا تو انہوں نے مجھے مختلف طریقوں سے ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے مجھے باتھ روم میں بند کر دیا، میرے ارد گرد جے شری رام کے نعرے لگائے اور مجھے انہیں دہرانے پر مجبور کیا۔ رامجس چوہدری نے کہا کہ مجھے ذات پات کے طعنے دیئے گئے، میرے کلاس روم میں دھمکی آمیز خاکے بنائے گئے اور مجھے ڈرانے کے لئے غنڈوں کو بلایا گیا۔ اپنی جان کو لاحق خطرات کو دیکھتے ہوئے چوہدری اپنے آبائی ضلع ستنا بھاگنے پر مجبور ہوئے۔سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور ضلع کلکٹر سمیت مقامی حکام کو شکایت درج کرانے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ پروفیسرچوہدری نے بتایاکہ ایس پی نے ان کی تحریری شکایت پھاڑ دی اور دوبارہ پولیس سے رجوع کرنے کی صورت میں انہیں گرفتار کرنے کی دھمکی دی۔ہراساں کرنے کا سلسلہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پروفیسرچوہدری کو قانونی کارروائی کے لئے درخواست دینے پر معطل کر دیا گیا۔ اگرچہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بعد میں انہیں بحال کر دیا اور ریاستی حکومت کو ان کی شکایات دور کرنے کا حکم دیا، تاہم ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔







