بھارت میں جوہری اور تابکار مواد کے اخراج اور اسمگلنگ پر عالمی برادری خاموش کیوں؟
اسلام آباد: بھارت میں جوہری اور تابکار مواد کے مسلسل اخراج اور اسمگلنگ کے واقعات پیش آرہے ہیں اور عالمی برادری نے اپنی آنکھیں بند کررکھی ہیں اوراس حوالے سے بھارتی حکومت کا محاسبہ کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارت کا جوہری اور تابکار مواد لیک اور اسمگل ہو رہا ہے اورعالمی برادری نے خاموشی اختیارکررکھی ہے۔2010میں نئی دہلی کے علاقے مایاپوری میںاس وقت ہلچل مچ گئی جب اسکریپ کے ایک ڈھیر کی وجہ سے لوگ پراسرارطورپر بیمار ہونے لگے۔ لوگوں کی جلدپر زخم کے نشان پڑگئے اورالٹیاں ہونے لگی جبکہ اندرونی طورپربھی انہیںنقصان ہونے لگا ۔ اس کی وجہ تابکاری کا زہر تھا جس نے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔تابکاری کا ذریعہ Cobalt-60 تھا۔بھارتی حکام نے اس واقعے کا رخ تبدیل کرنے کے لئے کہا کہ یہ مواد 1968کا گاما ریڈی ایٹر تھا جسے دہلی یونیورسٹی نے سکریپ کے طور پر فروخت کیا تھا۔لیکن متعدد آزاد رپورٹس نے اس وضاحت پر سوال اٹھایا۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ لیک نارورا نیوکلیئر پاور پلانٹ سے شروع ہوئی جووہاں سے 180کلومیٹر دور تھا اور یہ سمگلنگ کا نتیجہ تھا۔ 2010کے اکنامک ٹائمز کے ایک لیک کے مطابق اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ (AERB)کی داخلی تحقیقات نے اس میں اعلی ترین سطح پرافراد کے ملوث ہونے کی تصدیق کی۔سینئر حکام مبینہ طور پر جوہری مواد کی غیر قانونی اسمگلنگ میں ملوث تھے۔بعد میں اس رپورت کو غائب ہی کردیاگیا۔سائنسدان جنہوں نے اس کی مزاحمت کی، پراسرار حالات میں ہلاک ہوگئے، کوئی پبلک انکوائری نہیں ہوئی، کوئی احتساب نہیں اورسب خاموش ہوگئے۔مئی2017 میںدہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے کا ٹرمینل 3خالی کر دیا گیا ۔ کارگو ٹرمینل میں تابکاری کے الارم بجنے لگے۔ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس اندر گھس گئی اورگھنٹوں کی تفتیش کے بعد تابکاری کا پتہ میڈیکل کارگو سے ملا۔ لیکن سوالات باقی رہے کہ تابکار مواد سیکیورٹی سے کیسے گزرا؟ کیا یہ اسمگلنگ کی ایک اور کوشش تھی؟بعد میںیہ خبرہی غائب کردی گئی ، بالکل مایا پوری اور ہر دوسرے لیک کی طرح۔پریشانی کی بات یہ ہے کہ بھارت میں جوہری مواد کی اسمگلنگ کوئی جرم نہیں ہے ۔ 2021میں جھارکھنڈ میں بھارتی پولیس نے 7 کلو گرام سے زائد یورینیم کے ساتھ دو افراد کو گرفتار کیا۔ 2022 میں کروڑوں روپے مالیت کا کیلیفورنیا ضبط کیا گیاجو سب سے زیادہ تابکار اور خطرناک مواد وںمیں سے ایک ہے۔ 2023میں مہاراشٹر امیں حکام نے تھوریم نائٹریٹ کے ساتھ اسمگلروں کو پکڑاجو ایک بار پھر گہرے گٹھ جوڑ کی طرف اشارہ تھا۔2014سے بھارت میںیورینیم اسمگلنگ کے کم از کم 9 تصدیق شدہ واقعات پیش آچکے ہیں اورپوری بین الاقوامی برادری خاموش ہے اورکوئی بھارت سے جوابدہی کا مطالبہ نہیں کررہا ۔لیکن جب پاکستان پر بغیرکسی ثبوت کے دوہری استعمال کے صنعتی آلات درآمد کرنے کی کوشش کا الزام لگایا جاتا ہے تو یہ ایک بین الاقوامی اسکینڈل بن جاتا ہے۔ بھارت بار بار تابکار مواد پر کنٹرول کھو دیتا ہے؟ عالمی برادری خاموشی ہے۔ پاکستان کے 2020 کے واقعے کو جس میں دوہری استعمال کی مشینری کی برآمد کا الزام لگایاگیا تھا، اب دوبارہ میڈیا اور سفارتی سطح پراچھالا جا رہا ہے۔ امریکہ نے اس واقعے کے چارسال بعددسمبر 2024میں پاکستان کے نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس پر پابندی عائد کی تھی جو مغربی دفاعی حکمت عملی کے ساتھ نئی دہلی کی بڑھتی ہوئی صف بندی کا شاخسانہ تھا۔لیکن بھارت کی خلاف ورزیوں کی جانچ کیوں نہیں کی جاتی؟ تابکار مواد کے حوالے سے لاپرواہی کی پابندیاں کہاں ہیں؟ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA)نے مایا پوری، ہوائی اڈے کے واقعے، یا پراسرار حالات میں سائنسدانوں کی موت کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بارے میں انکوائری کیوں نہیں کی؟ بھارتی غفلت سے تابکار مواد کے غلط ہاتھوں میں لگنے کے نتائج تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ دوہری استعمال کی مشینری یا کنٹرول شدہ برآمدات کے برعکس تابکا رمواد کارسائو اور اسمگلنگ بغیر کسی شک کے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ وہ مواد ہیں جن کو سرحدوں کی ضرورت نہیں، تابکاری شہر کے چوکوں، راستوں یا ہسپتالوں میں کہیں سے بھی نمودار ہو سکتی ہے اور ایک بارتابکاری جاری ہوئی تویہ ختم نہیں ہوتی ہے۔ یہ زہرپھیلاتی ہے، لوگوں کومار دیتی ہے اوراس کا اثر طویل عرصے تک رہتاہے۔اس لئے احتساب عالمگیر ہونا چاہیے۔اب وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی برادری پسند ناپسند کا کھیل کھیلنا بند کرے۔ اگر مقصد جوہری مواد کا عدم پھیلائو اور عالمی سلامتی ہے تو بھارت کی خطرناک اور بار بار کی جانے والی غلطیوں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔






