بھارت

”گریٹر بنگلہ دیش‘ کا بھارتی واویلا، ناکامیوں ، سفارتی تنہائی سے توجہ ہٹانے کی کوشش

اسلام آباد:سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین نے ”گریٹر بنگلہ دیش“ کے حالیہ بھارتی واویلے کو انسداد دہشت گردی کی ناکامیوں اور جنوبی ایشیا میں سفارتی تنہائی سے توجہ ہٹانے کی ایک دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے حال ہی میں بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں ایک تحریری بیان دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں دکھائے جانے والے ” گریٹر بنگلہ دیش “نقشے کا نوٹس لیا ہے جس میں بھارتی علاقے کے کچھ حصے بھی شامل ہیں۔
اس نقشے کی نمائش 14 اپریل کو ڈھاکہ میں مقیم ایک گروپ نے ترک این جی او یوتھ فیڈریشن کے تعاون سے کی تھی ۔ بنگلہ دیشی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ نقشہ سابقہ بنگال سلطنت کا تاریخی حوالہ تھا اور یہ بنگلہ دیش کاسیاسی بیانیہ یا علاقائی دعویٰ ہرگز نہیں۔ نمائش کے منتظمین نے بھی غیر ملکی سیاسی اداروں کے ساتھ کسی قسم کے روابط کی تردید کی ہے۔
جے شنکر کے تبصرے نے تاہم تنقید کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا استدلال ہے کہ بھارت کی جانب سے اس طرح کے واویلے کا مقصد مودی حکومت کے اندرونی چیلنجوں سے عوام اور میڈیا کی توجہ ہٹانا ہے ۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش اور ترکی کے درمیان تعلقات کی مضبوطی نے بھارت کو بے چین کر دیا ہے او وہ اس دو طرفہ شراکت داری کو ممکنہ سٹریٹجک خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ بھارت اپنی ناکامیوں اور اپنی مسلم مخالف پالیسیوں کو چھپانے کے لیے ”گریٹر بنگلہ دیش “ نظریے کا شور مچا رہا ہے۔
ماہرین نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار ملک کے طور پر جامع شراکت داری اور اصولی سفارت کاری کو فروغ دینے اور علاقائی استحکام کے لیے کام کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ۔ تجزیہ کاروں ، ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان دو طرفہ اور کثیر جہتی فورمز میں گہرا تعلق اور روابط بڑھا کر موثر طریقے سے بھارت کے تسلط پسندانہ عزائم کا مقابلہ کر سکتا ہے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button