آمرانہ طرزِ حکومت؛ بھارت انٹرنیٹ بندش کرنے والے بدترین ممالک میں سرفہرست
نئی دلی:
بی جے پی کے ہندوتوا نظریے کے زیر اثر مودی حکومت کے دور میں بھارت انٹرنیٹ بندش کرنے والے بدترین ممالک میں سرفہرست آگیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انتہا پسند نظریات کی حامی اور اندرونی خلفشار کا شکار مودی حکومت انٹرنیٹ کی بندش کے ذریعے مسلمانوں سمیت اقلیتوں پر جاری ظلم و جبر چھپانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے ۔عالمی ڈیجیٹل حقوق کی تنظیم ایکسز نا کی رپورٹ نے بھارت کے نام نہاد جمہوریت کے دعوئوں کو بے نقاب کر دیاہے ۔بھارتی جریدے دی انڈین ایکسپریس کے مطابق بھارت 2025میں 65مرتبہ انٹرنیٹ شٹ ڈان سے بدترین ممالک میں سرفہرست رہا ۔مودی کے بھارت میں گزشتہ سال انٹرنیٹ سروسز کی بندش کسی بھی جمہوری ملک میں سب سے زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت میں 2018میں 134اور2019میں 121مرتبہ انٹرنیٹ سروسزکومکمل طور پر معطل کیا گیا۔ 12ریاستوں اور علاقوں میں بار بار اندرونی خلفشار، تشدد اور تنازعات پر انٹرنیٹ بند کیا گیا۔ بھارت اب بھی لوگوں کی آواز دبانے کو ترجیح دیتا ہے جو قطعا جمہوری اقدار نہیں ۔عالمی ماہرین کے مطابق تلخ حقائق کو چھپانے کے لیے بار بار انٹرنیٹ کی بندش بھارت میں بڑھتے اندرونی خلفشار کا واضح ثبوت ہے ۔ بی جے پی حکومت ہندوتوا کے انتہاپسند ایجنڈے کے تحت جاری ظلم و جبر کو چھپانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈیاختیار کر رہی ہے۔








