بھارتی حکومت میری نظر بندی کا جواز پیش کرنے کے لیے میرے الفاظ کو توڑ مروڑکرپیش کررہی ہے: سونم وانگچک

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں لداخ خطے کے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے ان کے کیس کا جائزہ لینے والے تین رکنی مشاورتی بورڈ کو بتایا ہے کہ ان کے بیانات کو جان بوجھ کر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جارہا ہے تاکہ کالے قانون قومی سلامتی ایکٹ کے تحت ان کی نظربندی کا جواز فراہم کیاجائے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وانگچک جنہوں نے پیر کو جودھ پور سنٹرل جیل میں نظربندی کا ایک ماہ مکمل کیا، گزشتہ ہفتے جائزہ بورڈکے سامنے پیش ہوئے اور واضح کیا کہ ان کے الفاظ اور خیالات کی غلط تشریح کی گئی اور انہیں بدامنی پھیلانے والے کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ایک مترجم نے ان کی ویڈیوز کی غلط تشریح کی جبکہ سی آر پی ایف، لداخ پولیس اور لوگوں کے درمیان جھڑپوں کو غلط طور پر ان سے منسوب کیا گیا۔گیتانجلی نے اس پورے واقعے کوانصاف کا قتل اوربھارتی جمہوریت کا مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ وانگچک پرسکون اور پر امید ہیں اورکہتے ہیں کہ انصاف کے گھر دیر ہے، پر اندھیر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پوری دنیا میں ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔وانگچک کو 26ستمبر کو لہہ میں بھارتی فورسز کی جانب سے فائرنگ کے بعدجس میں چارافراد ہلاک اوردرجنوں زخمی ہوئے تھے، قومی سلامتی ایکٹ کے تحت نظربندکیا گیا تھا۔ لہہ انتظامیہ نے بعد میں ان کی نظربندی کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کے لیے ریٹائرڈجسٹس ایم کے ہانجورا کی سربراہی میں تین رکنی مشاورتی بورڈ تشکیل دیا۔
دریں اثناء لداخ میں سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں نے وانگچک کی مسلسل نظربندی کی مذمت کی ہے۔ کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے رہنما سجاد کرگلی نے کہا کہ اس نظر بندی نے بداعتمادی کو گہرا کیا اور خطے کی جمہوری روح کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے وانگچک کی فوری رہائی اور لداخ میں جمہوری حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا۔








