موسم کی صورتحال

جموں کی جڑواں وادیاں مروہ اور واروان کا بیرونی دنیا سے زمینی رابطہ منقطع

علاقے کے 40ہزار رہائشیوں کو شدید مشکلات کاسامنا ، قابض انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت پر کڑی تنقید

جموں” غیر قانونی طور پربھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع کشتواڑ کی جڑواں وادیوں مروہ اور واروان کاایک بار پھر موسم سرما کے آغاز اور برفباری کی وجہ سے بیرونی دنیا سے زمینی رابطہ کٹ گیاہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق دونوں وادیوں کے تقریبا 40ہزار رہائشیوں نے درپیش شدید مشکلات پربھارتی قابض انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ انہیں طویل عرصے سے ہر سال موسم سرما میں انسانی بحران جیسی صورتحال کا سامناکرنا پڑتا ہے۔ہر سال درجہ حرارت نقطہ انجام سے گرنے اور برفباری کے ساتھ ہی 100کلومیٹر طویل مارگن ٹاپ ۔ واروان ۔ مروہ روڈ بند ہونے کے باعث مقامی لوگ اپنی جانیں بچانے کیلئے علاقے سے نقل مکانی کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔سطح سمندر سے 14ہزار فٹ کی بلندی پر واقع دونوں وادیوں کا شدید برفباری کی وجہ سے ہر سال چھ ماہ کیلئے بیرونی دنیا سے زمینی رابطہ منقطع ہو جاتاہے ۔بہت سے خاندانوںپہلے ہی خود کو محفوظ رکھنے کیلئے اورصورتحال مزید سنگین رخ اختیار کرنے سے قبل ضلع اسلام آباد کا رخ کرچکے ہیں ۔ یوردو گائوں کے رہائشی عابد کے مطابق گزشتہ سال حاملہ خواتین کی ہلاکتوں نے انہیں نقل مکانی پر مجبور کیا۔ ہم کسی بھی قسم کے خطرے سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق علاقے کا بیرونی دنیا سے زمینی رابطہ منقطع ہونے کے باعث مریضوں اور حاملہ خواتین کو سب سے زیادہ مشکلا ت کاسامنا کرنا پڑتا ہے ۔پیچھے رہ جانے والے لوگ سڑک بند ہونے سے قبل ضروری سامان اور مویشیوں کا چارہ ذخیرہ کرتے ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ اگرچہ2017میں علاقے میں بجلی کے کھمبے نصب کئے گئے تھے ابھی تک وہ بجلی کی سہولت سے مسلسل محروم ہیں ۔ شدید سرد موسم میں لوگ پینے کے پانی تک سے محروم ہو جاتے ہیں اور پانی کے حصول کیلئے انہیں میلوں سفر کرنا پڑتاہے ۔ علاقے میں موبائیل نیٹ ورک بھی اکثر معطل رہتاہے۔ علاقے کے لوگ صحت کی بنیادی سہولتیںسے بھی محروم ہیں اورانہیں ہر سال چھ ماہ تک بنیادی سہولتوں کے بغیر زندگی بسرکرناپڑتی ہے ۔انہوں نے قابض انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت پر سخت افسوس ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہر سال چھ ماہ کیلئے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاجاتاہے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button