بھارت

چھتیس گڑھ: "آپریشن کاگر”کے دوران بھارتی فورسز کی انسانی حقو ق کی سنگین خلاف ورزیاں

رائے پور :مودی کی بھارتی حکومت کی طرف سے شورش زدہ ریاست چھتیس گڑھ میں مائونواز باغیوں کے خاتمے کیلئے شروع کئے گئے” آپریشن کاگر” انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور فرقہ وارانہ کشیدگی کا باعث بنا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 2024میں شروع ہونے والے آپریشن کے دوران ریاست کے ضلع بستر میں60سے زائد بھارتی فوجی اہلکاروں ، ڈرونز کے ذریعے نگرانی کیلئے ٹیموں کو تعینات اور قبائلیوں کی زمینوں پر فوجی کیمپ قائم کئے گئے ۔ اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے نسلی امتیازنے 2025کے آخر میں بستر میں بڑے پیمانے پر تشدد کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد چھتیس گڑھ میں "ابتدائی انتباہ اور فوری کارروائی” کا نظام فعال کیا تھا۔رپورٹ کے مطابق جنوری 2024سے اکتوبر 2025کے دوران آپریشن میں بھارتی فورسز نے کم از کم 500 قبائلی افرد کو ہلاک کیا جن عام شہری بھی شامل تھے۔ ان کارروائیوں میں فضائی بمباری، غیر قانونی گرفتاری اور آبائی زمینوں سے جبری انخلا بھی شامل تھا۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ اور پیپلز یونین فار سول لبرٹیز کے مطابق کئی جعلی مقابلوںمیں بھارتی فورسز نے متعدد معصوم دیہاتیوں کو مائو نواز باغی قراردیکر کر ماورائے عدالت قتل کیا۔رواںسال جنوری میں بھارتی فورسز نے مبینہ طورپر14 مائونوازوں کو ہلاک کرنے کادعویٰ کیاہے ۔تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھارتی فورسز کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ ہلاک ہونے والے تمام نہتے دیہاتی تھے ۔اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے نسلی امتیاز کے مطابق مودی حکومت کی جانب سے مائو نوازوں کے قتل کیلئے مقرر کی جانیوالی انعامی رقم سے ریاست میں لاقانیونیت او ر ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو اہے ۔ سول سوسائٹی کی کارکن بیلا بھاٹیا نے کہاہے کہ چھتیس گڑھ میں بھارتی فورسز انعام و اکرام کی لالچ میں عام دیہاتیوں کومائو نواز باغی قراردیکر ماورائے عدالت قتل کررہے ہیں ۔چھتیس گڑھ میں ہندوتوابلوئیوں کی طرف سے عام شہریوں پر فرقہ وارانہ تشدد اور گھروں کو مسمار کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔رواں مال فروری میں ہندوتوابلوائیوں نے گڑیا بند میں مسلم خاندانوں کے گھروں پر حملہ کر کے انہیں بے گھر کر دیاہے۔ریاست میں مسیحی برادری اور مسلمانوں سمیت اقلیتیوں کو بھی ہراساں اور ظلم و تشدد کا سامنا ہے۔ چھتیس گڑھ میں جبری تبدیلی مذہب کے قانون کا استعمال اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جارہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button