نریندر مودی کا دورہ اسرائیل ، بھارتی خارجہ پالیسی کا دوہرا معیار بے نقاب

اسلام آباد:بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا آئندہ دورہ اسرائیل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت عرب سربراہی اجلاس کی میزبانی بھی کر رہا ہے، جس نے نئی دہلی کی خارجہ پالیسی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ متضاد سفارتی سرگرمیاں بھارت کے دوہرے معیار اور پالیسی تضاد کو نمایاں کرتی ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی تنازعات میں غیرجانبداری کا دعوی کرنے والا بھارت غزہ میں جاری بحران کے دوران اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کر کے انسانی ہمدردی کے اصولوں پر اسٹریٹجک اور عسکری مفادات کو ترجیح دیتا دکھائی دیتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اسرائیل کا دورہ نہ صرف علامتی اہمیت رکھتا ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ نئی دہلی اپنی جغرافیائی سیاسی ترجیحات کو اخلاقی موقف پر فوقیت دے رہا ہے۔دوسری جانب عرب ممالک کی میزبانی کو بعض مبصرین بھارت کی اس کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے ذریعے وہ بیک وقت مختلف بلاکس کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہناہے کہ اس طرزِ عمل سے بھارت کی سفارتی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔مزید برآں، بعض حلقے اس پالیسی کو مہاتما گاندھی کے انسانی اور اصولی سفارت کاری کے نظریات سے انحراف قرار دے رہے ہیں، جن میں اخلاقی قیادت اور انصاف کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ ان کے مطابق اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیتے ہوئے غزہ کی صورتحال پر واضح موقف سے گریز سفارتی عدم مطابقت اور دوغلے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔ موجودہ حالات میں بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی کے بیانیے اور عملی اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور باوقار کردار برقرار رکھ سکے۔






