کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کیلئے سکھ تنظیموں کا متحدہ جدوجہد کااعلان
جموں:
مختلف سکھ تنظیموں نے جموں کو علیحدہ ریاست کادرجہ دینے سے متعلق فرقہ وارانہ ایجنڈے کو مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی 5اگست 2019سے پہلے والی خصوصی آئینی اور ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سکھ تنظیموں شرومنی اکالی دل (امرتسر)، سکھ کونسل انٹرنیشنل، سکھ فیڈریشن اور سکھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے نمائندوں نے جموں میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں کو علیحدہ ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ مقبوضہ علاقے کی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ سکھ رہنمائوں نریندر سنگھ خالصہ، اندرجیت سنگھ، ہرمنن سنگھ، چرنجیت سنگھ، ہراسیس سنگھ، منجیت سنگھ، ہربخش سنگھ، سریندر سنگھ، دیویندر سنگھ، ترلوچن سنگھ، گجن سنگھ، گرتیگھ سنگھ، راجندر سنگھ اور دیگر نے موقف اختیار کیا کہ متحدہ جموں و کشمیر ہی معاشی اور سیاسی استحکام کے لیے زیادہ قابل عمل ہے۔سکھ رہنمائوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام تاریخی اور ثقافتی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، تاہم بعض فرقہ پرست عناصر علیحدگی کے نعروں کے ذریعے نفرت کو فروغ دے رہے ہیں، جو مقبوضہ علاقے کے اجتماعی اور سیکولر کردار کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سکھ برادری کواپنی شناخت اور مستقبل کے حوالے سے شدید تشویش لاحق ہے۔سکھ تنظیموں نے جموں و کشمیر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ 5 اگست 2019 سے پہلی والی ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے متحد ہو کر تحریک کا آغاز کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ 2024 میں کشمیر اسمبلی کے انتخابات سے قبل 17ستمبر کو سکھ برادری نے فاروق عبداللہ کی قیادت میں اتحاد قائم کرنے کی اپیل کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور 24ستمبر 2024 کو انہیں ایک تفصیلی یادداشت پیش کی گئی تھی، جس میں سکھ برادری کے مطالبات شامل تھے۔ ان مطالبات میں پنجابی زبان کو فروغ دینا، سیاسی ریزرویشن، اقلیتی درجہ، پناہ گزینوں کے مسائل، SRO-425میں مبینہ امتیازی سلوک اور حلقہ بندی کے عمل سے متعلق تحفظات شامل تھے۔




