آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر راجوری میں احتجاجی مظاہرے
جموں: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے قتل کے خلاف مقبوضہ جموں و کشمیر میں ضلع راجوری کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ضلع کے علاقے بدھل میں لوگوںنے شیخ العالم مسجد کے سامنے جمع ہوکر احتجاجی مظاہرہ کیا اور ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کی شدید مذمت کی۔مظاہرین نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نعرے بلند کرتے ہوئے حملے کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور مسلم دنیا کے خلاف جارحیت قرار دیا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور تحمل، امن اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے سینئر رہنما محمد فاروق انقلابی نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خامنہ ای کے قتل کو افسوسناک اور عالمی امن کے لیے خطرناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک خودمختار ملک کی قیادت کو نشانہ بنانا بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے اور اس کے علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
دریں اثناءراجوری قصبے میں مسلمان نوجوانوں نے”ایران یکجہتی مارچ“ کا اہتمام کیا۔مارچ کے شرکاءبیلہ روڈ پر جمع ہوئے اور امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے قصبے میں مارچ کیا۔ اس موقع پر امریکی اور اسرائیلی رہنماو¿ں کی تصاویروالے پوسٹرز کو نذر آتش کر دیا گیا۔اسی طرح کا احتجاجی مظاہرہ ضلع کے علاقے کوٹرنکا میں بھی کیاگیا جہاں مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے رکھے تھے جن پر غیر ملکی مداخلت کی مذمت اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے۔قابض حکام نے ان مظاہروں کو روکنے کے لیے کئی علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، وادی کشمیر کے لوگوںکو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔







