بھارت یکطرفہ طور پر معاہدہ کو معطل نہیں کر سکتا، محسن لغاری
اسلام آباد:
سابق صوبائی وزیر آبپاشی پنجاب محسن لغاری نے کہا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدہ کو معطل نہیں کر سکتا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آبی پالیسیز کے ماہر اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام(یو این ڈی پی)پاکستان نیشنل گورننس پروگرام سے منسلک محسن لغاری نے ایک میڈیا انٹرویو میں سندھ طاس معاہدے کو دنیا کے پانی کی تقسیم کے سب سے کامیاب معاہدوں میں سے ایک قرار دیا۔انہوں نے سندھ طاس معاہدہ کے مضبوط قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک پر زور دیتے ہوئے کہاکہ یہ معاہدہ مضبوط قانونی تحفظات پر مشتمل ہے اور کسی بھی ملک کیلئے یکطرفہ طور پر اس سے دستبرداری مشکل ہے۔ اس طرح کا کوئی بھی اقدام بین الاقوامی ثالثی کے طریقہ کار کو متحرک کرے گا۔ سندھ طاس معاہدہ کے حوالہ سے خدشات کو رد کرتے ہوئے محسن لغاری نے کہا کہ تنازعات کو حل کرنے کے لئے فوری سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے اور بھارت کی جانب سے ثالثی ٹریبونل کے بائیکاٹ وغیرہ کے بارے میں عالمی برداری کو آگاہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اپنے وسائل سے حاصل ہونے والے پانی کے انتظام کے نظام کو مستحکم کرنا چاہئے، اس کے تحفظ کے اقدامات کو بہتر بنانا چاہئے اور طویل مدتی پانی کی لچک کو یقینی بنانے کے لئے پانی کو ذخیرہ کرنے کی پائیدار حکمت عملی اپنانے کی بھی ضرورت ہے۔محسن لغاری نے دونوں ممالک سے مطالبہ کیا کہ عالمی بینک کے اشتراک سے مستقل انڈس کمیشن کے اجلاس دوبارہ شروع کئے جائیں اور سندھ طاس معاہدہ کے آرٹیکل XII کے تحت معاہدہ کو جدید بنانے کیلئے مذاکرات جاری رکھے جائیں ۔






