بھارت

بھارت کا سرحد پار قتل کا نیٹ ورک بے نقاب، خالصتان تحریک سے وابستہ سکھ کارکن نشانے پر

نئی دلی/روم:بھارت پر بیرون ملک خالصتان تحریک کے حامی سکھ کارکنوں کو نشانہ بنانے اور سرحد پار کارروائیوں کے الزامات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سکھ فار جسٹس کے رہنماء گرپتونت سنگھ پنوں نے 23اپریل کو اٹلی میں بھارتی سفارتکار کی ایک مبینہ آڈیو لیک جاری کی، جس میں خالصتان ریفرنڈم سے وابستہ کارکنوں کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر انہوںنے اپنی سرگرمیاں بند نہ کریں تو اپنی جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ دھمکی ہردیپ سنگھ نجرکے کینیڈا میں قتل، اوتار سنگھ کھانڈے کی برطانیہ میں مشتبہ موت اور امریکہ میں خود گرپتونت سنگھ پنوں کے خلاف مبینہ قاتلانہ منصوبے کے تناظر میں انتہائی تشویشناک ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، خالصتان تحریک کو خاموش کرانے کے لیے ماورائے عدالت اقدامات سے بھارت کا فاشسٹ طرزِ عمل ظاہر ہوتا ہے ۔
اطلاعات کے مطابق بھارتی قونصلر اور سفارتی اہلکاروں پر الزام ہے کہ وہ بیرون ملک پرامن سکھ کارکنوں کے خلاف ایک منظم مہم جاری رکھے ہوئے ہیں ، جس میں انکے خلاف دھمکیاں، نگرانی اور مبینہ ماورائے عدالت کارروائیاں شامل ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی طرف سے اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے سرحد پار قتل اور خوف و ہراس کا استعمال ایک ایسے ریاستی رویے کی عکاسی کرتا ہے جو بیرون ملک بھی مخالف آوازوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ماہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان الزامات کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور بیرون ملک سیاسی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button