غزہ میں جاری انسانی بحران ، بھارت-اسرائیل گٹھ جوڑپرشدید عالمی تنقید
اسلام آباد :
غزہ میں جاری شدیدانسانی بحران اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تشویش کے دوران بھارت اسرائیل تعلقات ایک بار پھر تنقید اور بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ناقدین ان روابط کو نہ صرف سفارتی اور دفاعی سطح پر بلکہ خطے میں جاری تنازعات کے تناظر میں بھی اہم قرار دے رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان تعلقات کے سیاسی، عسکری اور سماجی اثرات کا جائزہ لینا ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ یہ روابط جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت اسرائیلی شہریوں، خصوصا فوجی سروس مکمل کرنے والے نوجوانوں کے لیے ایک اہم سیاحتی مرکز بن چکا ہے، جہاں وہ پوسٹ سروس ٹرپ کے طور پر سفر کرتے ہیں۔ہر سال 30 ہزار سے 50 ہزار اسرائیلی فوجی بھارت کا رخ کرتے ہیں جبکہ بعض اوقات یہ تعداد 80 ہزار تک بھی پہنچ جاتی ہے۔رپورٹس کے مطابق خاص طور پر کاسول، دھرم کوٹ، گوا اور پشکرجیسے علاقوں میں اسرائیلی ثقافت کے نمایاں اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ دھرم کوٹ کو بعض حلقوں میں منی اسرائیل بھی کہا جاتا ہے، جہاں کیفے اور ہاسٹلز میں عبرانی زبان کے سائن بورڈز موجود ہیں جبکہ پشکر اور وارانسی میں اسرائیلی سیاحوں کے مطابق کھانے اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ گوا میں پارٹی کلچر اور کاسول میں مخصوص کیفیز بھی غیر ملکی سیاحوں، خصوصا اسرائیلیوں، کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اوراسرائیل کے درمیان دفاعی تعلقات بھی انتہائی مضبوط ہیں، جن کے تحت بھارت اسرائیل سے میزائل سسٹمز، ڈرونز اور نگرانی کی جدید ٹیکنالوجی حاصل کرتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہنود و یہود تعاون کی یہ جھلک جموں وکشمیر میں بھی دیکھی جا سکتی ہے، جہاں ڈرون نگرانی، سخت چیک پوسٹس، انٹرنیٹ بندشیں، گھروں کی مسماری اور دیگر اقدامات زیر بحث رہتے ہیں۔مزید برآں، مبصرین کے مطابق انسداد دہشت گردی کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں اضافہ ہوا ہے جبکہ بعض حلقے نریندر مودی اورنیتن یاہو کی پالیسیوں کو ایک جیسی نظریاتی سمت قرار دیتے ہیں۔ ناقدین کا مزیدکہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ ظلم و بربریت کے دوران بھارت کا جھکا ئواسرائیل کی طرف تھا، جس پر انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان تعلقات کے سیاسی، سماجی اور علاقائی اثرات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔






