ہندوتوا کی حامی ویب سائٹ OpIndia صحافیوں کو ہراساں کرنے کی منظم مہم چلا رہی ہے: آر ایس ایف
پیرس: پیرس میں قائم آزادی صحافت کی علمبردار عالمی تنظیم” رپورٹرز ودآئوٹ بارڈرز”یاآر ایس ایف نے کہا ہے کہ ہندوتوا کی حامی نیوز ویب سائٹ OpIndiaبھارت میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لئے ایک منظم مہم چلا رہی ہے اوراس کی رپورٹنگ نے صحافیوں کے ساتھ بدتمیزی،انہیں ہراساں کرنے اور ان کے تحفظ کو خطرات سے دوچارکرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آر ایس ایف نے رواں ہفتے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا کہ اس نے اکتوبر 2023سے ستمبر 2025کے درمیان OpIndiaکے مواد کا تجزیہ کیا اور صحافیوں اور میڈیا اداروں کو نشانہ بنانے والے کم از کم 314مضامین کی نشاندہی کی۔ ان میں سے 208میں 134صحافیوں کو براہ راست جبکہ دیگر میں صحافیوں اور نیوز پلیٹ فارمز کو بالواسطہ نشانہ بنایاگیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2014میں قائم ہونے والی ویب سائٹ” اوپی انڈیا”ہندو قوم پرست نظریے” ہندوتوا ”کے ساتھ قریبی تعلق رکھتی ہے۔آر ایس ایف نے کہا کہ بہت سے مضامین میں مخالفانہ اور اشتعال انگیز زبان استعمال کی گئی ہے جس میں صحافیوں کو ملک دشمن،بھارت مخالف،جھوٹی یاجعلی خبریں چلانے والوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور اس طرح کی رپورٹنگ نے اکثر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس ”پر ہراساں کرنے کی مربوط مہمات کو جنم دیا۔آر ایس ایف کی ادارتی ڈائریکٹر این بوکانڈی نے کہاکہ اوپی انڈیا بھارت میں صحافیوں کو منظم طریقے سے ہراساں کرنے کا ایک مرکزی ادارہ ہے جو انہیں سنگین خطرات سے دوچارکرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آن لائن ہراساں کرنا بھارت میں آزادی صحافت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔آر ایس ایف کے مطابق ممتاز صحافی راجدیپ سرڈیسائی، ارفع خانم شیروانی، محمد زبیر، رویش کمار اور رانا ایوب سب سے زیادہ نشانہ بننے والوں میں شامل ہیں۔ تنظیم نے کہا کہ دی وائر، نیوز کلک اور نیوز لانڈری جیسے آزاد میڈیا اداروں کو بھی بار بارنشانہ بنایاگیا۔ آر ایس ایف نے آزاد صحافی میر فیصل کے کیس کو اجاگر کیا جنہیں جون 2024میں شائع ہونے والے OpIndiaکے آرٹیکلزمیں نشانہ بنایا گیا اور انہیں جعلی خبریںپھیلانے والا اور اسلام پسندقراردیاگیا تھا۔ تنظیم نے کہا کہ ان مضامین کے بعد آن لائن بدسلوکی میں اضافہ ہوا۔ آر ایس ایف نے ہندو قوم پرست نیٹ ورکس سے وابستہ ٹیلی گرام گروپس کے لنکس کی بھی نشاندہی کی جہاں ممبران نے کھلے عام صحافیوں کو نشانہ بنانے پر زوردیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”دی گارڈین” کی نامہ نگار ہننا ایلس پیٹرسن اور اے بی سی نیوز کے صحافی ایوانی ڈیاس سمیت بھارت میں کام کرنے والے غیر ملکی نامہ نگاروں کو بھی اسی طرح سے نشانہ بنایا گیا جب کہ ان پر آن لائن بھارت مخالف یاہندو مخالف مہم چلانے کا الزام لگایا گیا۔تنظیم نے OpIndiaکی فنڈنگ کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ سائٹ گوگل ایڈسینس کے ذریعے فنڈز اکٹھاکر رہی ہے۔ آرایس ایف نے کہا کہ یہ پریشان کن ہے کیونکہ گوگل کی پالیسیاں ایسے مواد پر پابندی عائد کرتی ہیں جو نفرت یا امتیاز کو فروغ دیتا ہے۔آر ایس ایف نے بھارتی حکام پر زور دیا کہ وہ ہراساں کرنے کی اس طرح کی مہمات کی تحقیقات کریں۔ اس نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے مطالبہ کیاکہ وہ توہین آمیز مواد کے خلاف کارروائی کریں۔ تنظیم نے کہاکہ صحافیوں کو آن لائن ہراساں کرنے سے بچانا بھارت میں آزادی صحافت کے دفاع کے لیے ضروری ہے۔






