مقبوضہ کشمیر :ہائیکورٹ نے ملازمین کی برطرفی کے انتظامیہ کے حق کو برقراررکھا

سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں ہائیکورٹ نے بغیر کسی محکمانہ انکوائری کے سرکاری ملازمین کو برطرف کرنے کے انتظامیہ کے حق کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ آئین یا متعلقہ قوانین کے تحت گورنر یا صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ حکومت کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے بغیر کسی تحقیقات کے ملازم کو برطرف کر سکتے ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق یہ فیصلہ ایک پولیس کانسٹیبل کی برطرفی کے معاملے کی شنوائی دوران سامنے آیا۔عدالت نے کہا کہ حکام اس بات کے پابند نہیں ہیں کہ وہ ان بنیادوں کو ظاہر کریں جن کی بنا پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ گورنر یا صدر کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے اور متعلقہ ملازم کو وجوہات بتانا لازمی نہیں ہے۔
یادرہے کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت نے اگست 2019میں مقبوضہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک کشمیری ملامین کی ایک بڑی تعداد کو ملامت ملازمتوں سے برطرف کر دیا ہے ۔ ملازمین کی یہ برطرفی کشمیری مسلمانوں کو دیوار کیساتھ لگانے کی بھارتی حکومت کی منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے ۔ اسکا ایک مقصد کشمیریوں کومعاشی طور پر مفلوک الحال کرنا جبکہ اسکے ساتھ ساتھ نکالے جانے والے ملازمین کی جگہ بھارتی ہندو ملازمین تعینات کر کے علاقے میں ہندو توا ایجنڈے کو آگے بڑھنا ہے۔






