مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیر: کشمیریوں کی جائیدادیں مختلف بہانوں سے ہتھیانے کا سلسلہ جاری

پلوامہ ، اسلام آباد ، بارہمولہ میں مزید املاک ضبط

سرینگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی انتظامیہ کی طرف سے مختلف حیلے بہانوں سے کشمیریوں کے گھروں ، زمیوں اور دیگر املاک پر قبضہ کا مذموم سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کی سربراہی میںقائم انتظامیہ نے انسداد منشیات کی نام نہاد مہم کی آڑ میں ضلع پلوامہ کے علاقے چیرسو میں نثار احمد کھانڈے کی دو دکانیں اور ایک مویشی خانہ مسمار کر دیے ۔ بھارتی پولیس نے لیفٹیننٹ گورنر کے حکم پر ضلع بارہمولہ کے علاقے رفیع آباد میں سہیل احمد زرگر کی22لاکھ 49ہزار سے زائد مالیت کی غیر منقولہ جائیداد ضبط کر لی۔پولیس نے ضلع اسلام آباد کے علاقے چترگل میں محمد یوسف حجام کا ایک منزلہ رہائشی مکان ضبط کر لیا۔
یاد کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھارتی حکومت اگست 2019 میں مقبوضہ جموں وکشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے کشمیریوں کے مکانوں، زمینوں اور دیگر املاک کو ضبط کرنے کا عمل کو نمایاں طور پر تیز کر دیا ہے۔ تب سے اب تک سینکڑوں املاک کو مختلف بہانوں سے ضبط یا مسمار کیا جا چکا ہے۔ مقبوضہ علاقے کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سہنا نے چند ماہ سے مقبوضہ علاقے انسداد منشیات کی نام نہاد مہم شروع کر رکھی ہے جس کی آڑ میں بھی کشمیریوں کی زمینوں ، گھروں اوردیگر املاک کوچھینا جا رہا ہے ۔ کشمیریوںکی جائیدادوں کو مختلف بہانوں سے ہڑپ کرنے کا اصل مقصد انہیں معاشی طور پر مفلوک الحال کرنا اور ضبط شدہ جائیدادیں غیر کشمیری بھارتی ہندوئوںکو دیگر علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button