چین کے خلاف بھارت کی بحری پالیسی اسٹریٹجک حد سے تجاوز ہے

بیجنگ : بحر ہند کے خطےمیں چین کو قابو میں رکھنے کی بھارت کی کوشش کو اسٹریٹجک حد سے تجاوز قراردیاجارہا ہے جو علاقائی استحکام اور نئی دہلی کی خارجہ پالیسی کی خودمختاری پر سمجھوتے کے مترادف ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت نے اپنی بحریہ کو کواڈ کے ساتھ جوڑ کر چین کے خلاف امریکی اتحاد کا حصہ بنا لیا ہے، یہ ایک ایسا اقدام ہے جس نے چھوٹی ساحلی ریاستوں کو الگ تھلگ اور تجارت کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ مالدیپ، سیشلز، سری لنکا اور ماریشس میں ساحلی راڈار سسٹم اور بحری اثاثوں کی تعیناتی کو پڑوسیوں کی خودمختاری کو نظر انداز کرنے کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا 92 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ چین کے 336 ارب ڈالرکے مقابلے کے لئے مختص کیاگیا ہے جبکہ تقریباً 100 فعال یونٹوں پر مشتمل اس کی بحریہ کو پیپلز لبریشن آرمی کی بحریہ کے 370 جہازوں کا سامنا ہے۔چین نے آبنائے ملاکا کی نگرانی کی کوششیں جس کے ذریعے چین کی تیل کی درآمدات کا 80 فیصد گزرتا ہے ، 62 ارب کے سی پیک اور پائپ لائن منصوبوں سے غیر اہم بنادی ہیں۔3.5 ٹریلین ڈالر سالانہ تجارت اور روزانہ 20 ملین بیرل تیل کی ترسیل کے راستے پر چینی جہاز رانی کو نشانہ بنانے والے ہتھکنڈے عالمی سپلائی چین کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اس نقطہ نظر نے 23 رکنی IORA جیسے جامع فریم ورک کو بھی چین مخالف گروپ بندیوں سے بدل دیا ہے جس سے جنوبی ایشیائی اور مشرقی افریقی سفارت کاری ہار اورجیت کی جنگ بن گئی ہے۔یہ پیش رفت بڑی طاقتوں کے اس رحجان کی عکاسی کرتی ہے جو اکثر علاقائی تعاون کی قیمت پرسمندری بلاکس کا استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک اپنے حریفوں کو روکتی ہیں ۔ دیگر خطوں میں بھی اسی طرح کی رکاوٹوں کی حکمت عملیوں نے تجارتی راستوں کومسدودکر دیا، فوجی محاذآرائی کو بڑھا دیا اور چھوٹی ریاستوں کو مسابقتی طاقتوں کے درمیان پھنسادیا ہے جس سے بلاکس کی سیاست کے بجائے جامع سکیورٹی منصوبوں کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔





