بھارت :عیدالاضحی کے دوران مسلمانوں کیخلاف تشددکے46 واقعات رپورٹ ہوئے
نئی دلی:
شہری حقوق کی تنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے انکشاف کیا ہے کہ عیدالاضحی کے موقع پر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کے 46واقعات رپورٹ ہوئے ہیں ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تنظیم کی تازہ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ 11 سے 29مئی کے دوران بھارت میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیاہے۔ اس دوران 46واقعات کے دستاویزی شواہد اکٹھے کئے گئے جن میں سے 30کا براہ راست تعلق مسلمانوں کی طرف سے منائی جانیوالی عیدالاضحی سے تھاجب دنیا بھر کے مسلمان حضرت ابراہیم علیہ اسلام اور انکے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ اسلام کی عظیم قربانی کی یاد میں جانوروں کی قربانی کرتے ہیں ۔ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے کہا کہ مسلمانوں کوجانوروں کی قربانی،انکی نقل و حمل اور عید کی نماز کے حوالے سے مختلف پابندیوں، دھمکیوں اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔اس دوران رپورٹ کئے گئے 32واقعات میں مسلمانوں کو ڈرانے دھمکانے اور ہراسانی کاسامنا کرنا پڑا جبکہ نفرت انگیز تقاریر کے 6واقعات رپورٹ ہوئے۔ 3مسلمانوں کوجسمانی حملوں کاسامنا کرناپڑا اور املاک پر حملوں کے 3واقعات بھی سامنے آئے۔تنظیم کے مطابق اس عرصے کے دوران 3 مسلمان جاں بحق ہوئے ۔ گجرات میں ایک مسلمان کومبینہ طور پر گائے ذبح کرنے پر حراست کے دوران وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے وہ جاں بحق ہو گیا ۔ آسام میں مویشی چوری کے الزام میں دو مسلمانوں کو بلوائیوں نے تشدد کر کے قتل کر دیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ25سے 29مئی کے درمیان صرف پانچ دنوں میں فرقہ وارایت کے 22واقعات پیش آئے، جس سے صورتحال کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے ۔تنظیم نے گائے کے نام پر نگرانی اور تشدد کو مسلمانوں کے خلاف پرتشددفرقہ وارانہ واقعات کی بڑی وجہ قرار دیا۔ ہریانہ میں دو مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گائے کا پیشاب پینے پر مجبور کیا گیا۔ریاست تلنگانہ میں ایک ٹرک پرہندوتوا بلوائیوں کے حملے میں تین مسلمان زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں بعض سیاسی رہنمائوں اور ہندوتوا تنظیموں پر مسلمانوں کی مذہبی رسومات کے خلاف مہم چلانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق بی جے پی، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد سے وابستہ ہندوتواعناصر مختلف علاقوں میں قربانی اور عید کی نماز کی مخالفت کرتے رہے ۔رپورٹ میں تاج محل میں عید کی نماز کے خلاف احتجاج، عوامی مقامات پر نماز کی مخالفت اور مہاراشٹر کے کلیان میں عید کی نماز کے دوران ہنومان چالیسہ پڑھنے جیسے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ بعض واقعات کا مقصد فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینا تھا۔





