قابض حکام نے سرینگر میں مزید دو کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کر لیں
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے اپنے نوآبادیاتی اقدامات کو جاری رکھتے ہوئے ضلع سرینگر میں مزید دو کشمیریوں کی غیر منقولہ جائیدادوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے پولیس نے سرینگر کی نندریشی کالونی سے تعلق رکھنے والے سکندر فردوس کا تین منزلہ رہائشی مکان ضبط کر لیا۔ اسی طرح کی ایک اور کارروائی میں ضلع کے علاقے کرالہ کھڈ میں غلام حسن بٹ کا ایک منزلہ مکان بھی ضبط کر لیا گیا۔ضبط کی گئی جائیدادوں کی قیمت بالترتیب تقریباً 80 لاکھ اور 70 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ جائیدادیں غیر قانونی طریقوں سے حاصل کی گئی ہیں۔اگست 2019 میںمقبوضہ جموں وکشمیرکی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد بھارتی حکام نے مختلف بہانوں سے کشمیریوں کے مکانوں، دکانوں، زمینوں اور دفاتر سمیت سینکڑوں جائیدادوں پر قبضہ کر لیا ہے۔جموں وکشمیر پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد کشمیریوں کو معاشی طور پر کمزور کرنا اور ان جائیدادوں کو غیر مقامی ہندوو¿ں کو الاٹ کر کے علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا ہے۔






